نئی دہلی ، 9/جون (ایس او نیوز /ایجنسی) نیٹ پرچہ لیک معاملے میں گرفتار ملزمہ منیشا واگھمارے کو بڑا قانونی جھٹکا لگا ہے۔ دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے ان کی ضمانت کی عرضی مسترد کرتے ہوئے انہیں فوری راحت دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔
سماعت کے دوران منیشا واگھمارے کی جانب سے پیش وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ ایک مستند تعلیمی مشیر ہیں اور ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ طلبہ کو دی جانے والی تعلیمی رہنمائی ہے۔ دفاعی فریق نے عدالت کو بتایا کہ سی بی آئی جس بینک اندراج کو مشتبہ قرار دے رہی ہے، وہ دراصل آبائی جائیداد سے متعلق ایک تحفہ نامے کے ذریعے حاصل ہونے والی تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے کی رقم تھی۔
وکیل نے مزید کہا کہ منیشا واگھمارے کے بینک کھاتوں اور مالی ریکارڈ میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو انہیں جرم سے جوڑتا ہو۔ دفاعی فریق کے مطابق سی بی آئی نے ان کے گھر پر دو مرتبہ تلاشی مہم چلائی، لیکن وہاں سے نہ کوئی بڑی رقم برآمد ہوئی اور نہ ہی کوئی قابل اعتراض مواد ملا۔ اسی بنیاد پر عدالت سے درخواست کی گئی کہ ملزمہ کو ضمانت دی جائے۔
دوسری جانب مرکزی تفتیشی بیورو نے ضمانت کی سخت مخالفت کی۔ سی بی آئی نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ منیشا واگھمارے خود کو تعلیمی مشیر بتاتی ہیں، تاہم وہ ایک بیوٹی پارلر بھی چلاتی ہیں۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق وہ نیٹ امتحان سے متعلق سوالات کو غیر قانونی طور پر دیگر ملزمان تک پہنچانے والے مبینہ نیٹ ورک کا اہم حصہ تھیں۔
سی بی آئی کا کہنا تھا کہ منیشا واگھمارے نے کیمیا، حیاتیات اور طبیعیات کے سوالات مبینہ طور پر لوکھنڈے نامی شخص کو فراہم کیے، جہاں سے یہ معلومات بعد میں شبھم نامی ملزم تک پہنچیں۔ ایجنسی کے مطابق ملزمہ رقم لے کر طلبہ کو امتحان سے متعلق سوالات یا ان کی معلومات فراہم کرنے کے کام میں ملوث تھی۔
تفتیشی ادارے نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اس کے پاس ایسے طلبہ کے بیانات موجود ہیں جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امتحانی سوالات یا ان سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے منیشا واگھمارے کو رقم ادا کی تھی۔ سی بی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملے کی تفتیش ابھی جاری ہے اور اگر ملزمہ کو ضمانت دے دی گئی تو شواہد اور گواہوں پر اثر انداز ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔