ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ٹمکورو میں سی پی آئی (ایم) کا احتجاج: ریزرویشن کو آئینی تحفظ اور خالی اسامیوں کو فوری پُر کرنے کا مطالبہ

ٹمکورو میں سی پی آئی (ایم) کا احتجاج: ریزرویشن کو آئینی تحفظ اور خالی اسامیوں کو فوری پُر کرنے کا مطالبہ

Tue, 14 Apr 2026 18:20:03    S O News
ٹمکورو میں سی پی آئی (ایم) کا احتجاج: ریزرویشن کو آئینی تحفظ اور خالی اسامیوں کو فوری پُر کرنے کا مطالبہ

ٹمکورو ، 14/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاست کرناٹک میں ریزرویشن (ملازمتوں میں تحفظات) اور بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے مسائل کے پیشِ نظر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسی) [سی پی آئی (ایم)] کے زیر اہتمام ٹمکورو میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں مرکزی حکومت سے فوری مداخلت اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔

احتجاج میں شریک مقررین نے کہا کہ ریزرویشن سے متعلق ریاستی فیصلوں کو آئین کی نویں فہرست میں شامل کیا جائے تاکہ انہیں قانونی تحفظ حاصل ہو سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ درج فہرست ذاتوں، قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کو ان کا جائز حق فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مقررین نے نشاندہی کی کہ سرکاری محکموں میں بڑی تعداد میں اسامیاں خالی ہیں، لیکن تقرری کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام خالی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے اور بیک لاگ پوسٹس کو بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبے میں بھی روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں، لیکن وہاں ریزرویشن پالیسی کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے پسماندہ طبقات کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس لیے نجی شعبے میں بھی ریزرویشن نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

احتجاج کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے تجاوز کرنے کے مسئلے پر قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب اقدامات کیے جائیں، جیسا کہ دیگر ریاستوں میں مثالیں موجود ہیں۔ ساتھ ہی اقتصادی طور پر کمزور طبقات کے لیے مخصوص کوٹہ کی طرز پر مزید اقدامات کی بھی تجویز پیش کی گئی۔

مقررین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ آبادی کے تناسب سے ترقیاتی بجٹ اور سہولتوں کی تقسیم نہیں ہو رہی، جس کے باعث پسماندہ طبقات کی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان طبقات کے لیے مختص فنڈز میں اضافہ کیا جائے اور انہیں دیگر مدات میں منتقل نہ کیا جائے۔

آخر میں مرکزی حکومت سے اپیل کی گئی کہ وہ اس حساس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے اور ریاست کے مطالبات کو فوری طور پر منظور کرتے ہوئے آئینی و قانونی اقدامات کرے، تاکہ سماجی انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔


Share: