بنگلورو، 29/اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت بنگلورو کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور شہر کی تیز رفتار ترقی کے لیے اعلیٰ ترجیح کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے 40 کلومیٹر طویل سرنگی کوریڈور، 120 کلومیٹر ایلیویٹڈ کوریڈور، تقریباً 500 کلومیٹر نئی سڑکوں کی تعمیر اور 1,500 کلومیٹر اہم سڑکوں کی توسیع و بہتری کے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو اپنی سرکاری رہائش گاہ کرشنا میں بنگلورو شہر کے ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں کہی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنگلورو کی آبادی اور گاڑیوں کی تعداد ملک کے دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ سڑکوں کی گنجائش اس تناسب سے کم ہے۔ اس لیے حکومت نے سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے 40 کلومیٹر طویل سرنگی کوریڈور کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جبکہ ہیبال میں 2 کلومیٹر طویل سرنگ کی تعمیر کا کام بھی شروع کیا گیا ہے۔ مجوزہ شمال۔جنوبی کوریڈور 16.5 کلومیٹر طویل ہوگا، جس پر 17,780 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ اس منصوبے میں ریاستی حکومت 7,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی۔ اسی طرح 21 کلومیٹر طویل مشرق۔مغربی کوریڈور میں داخلے کے 2 مقامات ہوں گے۔
ڈی کے شیوکمار کے مطابق، قومی شاہراہوں کے معیارات کے مطابق 120 کلومیٹر طویل ایلیویٹڈ کوریڈور کی تعمیر کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے، جس پر 23,165 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ اس منصوبے کو 4 زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے اور 10 کلومیٹر سے کم طویل کوریڈور پر ٹول وصول نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ بنگلورو میں تقریباً 500 کلومیٹر نئی سڑکوں کے رابطے قائم کیے جائیں گے۔ ان میں برساتی نالوں کے کنارے 300 کلومیٹر بفر سڑکیں اور 68 کلومیٹر طویل بزنس کوریڈور شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 17 کلومیٹر طویل آؤٹر رنگ روڈ کی ازسرنو ترقی اور شہر کے مضافات میں 18 کلومیٹر سڑک پر وائٹ ٹاپنگ کا کام جلد شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے آؤٹر رنگ روڈ کے دائرے میں 37 کلومیٹر طویل ڈبل ڈیکر سڑک کی تعمیر کی تجویز مرکزی حکومت کو پیش کی تھی، تاہم مرکز نے فی الحال صرف 11 کلومیٹر حصے کی منظوری دی ہے۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ بنگلورو کے تمام اسمبلی حلقوں کو ترقیاتی کاموں کے لیے ضرورت کے مطابق فنڈ فراہم کیے گئے ہیں اور اس معاملے میں کسی قسم کا امتیاز نہیں برتا گیا۔ انہوں نے ارکان اسمبلی سے کہا کہ وہ اپنے حلقوں میں فوری طور پر انجام دیے جانے والے کاموں کی تجاویز پیش کریں، تاکہ ان کے لیے فنڈ جاری کرنے کے اقدامات کیے جاسکیں۔
انہوں نے بتایا کہ بنگلورو ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور بنگلورو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے ذریعے بھی شہر کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنگلورو کی ترقی کے لیے آئندہ 10 برسوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی گئی ہے اور مجوزہ نئے منصوبوں کے لیے تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے درکار ہوں گے۔ حکومت ترجیحی بنیادوں پر ان منصوبوں کے لیے فنڈ فراہم کرے گی۔
شہر کی ٹریفک کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ صرف سڑکوں کی تعمیر سے ٹریفک کے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے۔ حکومت بی ایم ٹی سی بس خدمات، میٹرو اور مضافاتی ریلوے رابطوں میں توسیع کو ترجیح دے رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بنگلورو میں فی الحال میٹرو نیٹ ورک 96 کلومیٹر طویل ہے، جسے 2027 تک بڑھا کر 170 کلومیٹر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ شہر میں اس وقت تقریباً 7,000 بسیں چل رہی ہیں اور ان میں مزید 4,500 نئی بسیں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ مضافاتی ریلوے منصوبے پر بھی کام جاری ہے اور 2030 تک 150 کلومیٹر طویل ریلوے رابطہ قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
شہر کی بڑھتی ہوئی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کاویری مرحلہ ششم منصوبہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گریٹر بنگلورو اتھارٹی (جی بی اے) کی حدود سے باہر واقع 65 گرام پنچایتیں پہلے ہی شہری نوعیت اختیار کرچکی ہیں۔ شہر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے انہیں مرحلہ وار شہری مقامی اداروں میں ترقی دینے کا منصوبہ ہے۔ ان علاقوں میں مستقل پینے کے پانی، نکاسیٔ آب اور سڑکوں کی بہتری کے لیے بھی منصوبے تیار کیے جائیں گے۔