بھٹکل 15/اکتوبر (ایس او نیوز) : طویل عرصے سے سست روی کا شکار بھٹکل میں قومی شاہراہ کی فور لین تعمیر کا کام اب رفتار پکڑنے لگا ہے۔ کئی مرتبہ توسیع کے باوجود نامکمل رہنے والے اس منصوبے کے تحت، زیرِ تنازع مقامات کو چھوڑ کر دیگر حصوں میں اکتوبر کے آخر تک کام مکمل ہونے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔ اسی سلسلے میں نور مسجد کے سامنے سے مسجدِ طور تک شاہراہ کا کام مکمل ہونے کے بعد بدھ کی شام اس سڑک کو منگلورو کی جانب جانے والی گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا۔
نور مسجد کے سامنے اور انجمن کالج جانے والی سڑک کے قریب شاہراہ کی تعمیر کا کام طویل عرصے سے زیرِ التوا تھا۔ اب نور مسجد سے مسجدِ طور تک کا حصہ مکمل ہونے کے بعد ٹریفک کی آمدورفت شروع ہوگئی ہے، جبکہ ڈاؤن ٹاؤن کی جانب جانے والی سڑک پر سروس روڈ کی تعمیر کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔
تاہم، شاہراہ کے اس حصے میں ٹریفک کی صورتِ حال اب بھی مقامی لوگوں اور شاہراہ سے گزرنے والی گاڑیوں کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہے۔ شمس الدین سرکل سے نور مسجد کے سامنے پہنچنے کے بعد ایک راستہ منگلورو کی جانب جاتا ہے، جبکہ ڈاؤن ٹاؤن کی طرف جانے والی گاڑیوں کو شاہراہ عبور کرکے نیچے کی طرف جانے والی دوسری سڑک پکڑنی ہوتی ہے۔ ایسے میں ہیوی ٹریفک کے درمیان راستہ تبدیل کرنا گاڑیوں کے لیے دشوار ثابت ہورہا ہے۔



اسی طرح ڈاؤن ٹاؤن سے سرکل کی جانب آنے والی گاڑیوں کو بھی شدید ٹریفک کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ منگلورو سے ہوناور کی طرف قومی شاہراہ سے گزرنے والی گاڑیوں کو بھی ڈاؤن ٹاؤن سے آنے والی بھاری ٹریفک کے درمیان آگے بڑھنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔
دوسری جانب غزالی کمپلیکس کے سامنے سے نور مسجد ہوتے ہوئے سرکل کی طرف جانے والے اور رنگین کٹہ سے سرکل کی جانب آنے والے سروس روڈ کے بعض حصوں کا کام مکمل ہوچکا ہے، جبکہ بقیہ کام جاری ہے۔
ڈاؤن ٹاؤن سے شاہراہ کے راستے انجمن کالج، سرکاری اسپتال اور سنتے مارکیٹ جانے والی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے آئی آر بی کمپنی کیا منصوبہ اختیار کرے گی اور سروس روڈ کو کس انداز میں تعمیر کیا جائے گا، اس بارے میں صورتِ حال کام مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔
اس سلسلے میں قومی شاہراہ ہوراٹا سمیتی کے صدر ستیش کمار نے بتایا کہ آئی آر بی کمپنی کی جانب سے اکتوبر کے آخر تک شاہراہ کا کام مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے مقررہ مدت میں کام مکمل ہونے کا امکان نظر آرہا ہے، تاہم جن مقامات پر زمین یا دیگر معاملات کو لے کر تنازعات ہیں، وہاں تعمیراتی کام میں مزید تاخیر ہوسکتی ہے۔
واضح رہے کہ بھٹکل میں قومی شاہراہ کو فور لین میں تبدیل کرنے کا کام 2013 میں شروع ہوا تھا اور اسے 2019 تک مکمل ہوجانا چاہیے تھا۔ تاہم، مختلف وجوہات کی بنا پر منصوبہ مسلسل تاخیر کا شکار ہوتا رہا اور اب 2026 کا اکتوبر بھی شروع ہوچکا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا اکتوبر کے آخر تک کام واقعی مکمل ہوپاتا ہے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی اہم ہوگا کہ تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت کتنی سہل ہوتی ہے اور مقامی لوگوں کو روزمرہ سفر کے دوران درپیش مشکلات سے کس حد تک نجات ملتی ہے۔