ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دہلی جنتر منتر احتجاج: سی جے پی کے سورَو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دن کی عدالتی تحویل میں تہاڑ جیل منتقل

دہلی جنتر منتر احتجاج: سی جے پی کے سورَو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دن کی عدالتی تحویل میں تہاڑ جیل منتقل

Wed, 14 Oct 2026 11:40:57    S O News
دہلی جنتر منتر احتجاج: سی جے پی کے سورَو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دن کی عدالتی تحویل میں تہاڑ جیل منتقل

نئی دہلی، 14 /اکتوبر (ایس اونیوز): کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو دہلی کی ایک عدالت نے پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ دونوں کو منگل، 13 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاج کے دوران پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ ان کے ساتھی اور پارٹی کے رہنما اجنکیا شندے کو بھی حراست میں لیا گیا تھا، تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق انہیں ذاتی مچلکے پر رہائی دی گئی ہے۔

دہلی پولیس کے مطابق، سی جے پی کے رہنما پولیس کی رکاوٹیں عبور کرکے جنتر منتر میں داخل ہوئے، جہاں احتجاجی مظاہروں کے انعقاد کے لیے سرکاری اجازت نہیں تھی۔ پولیس نے ان کے خلاف غیر قانونی طور پر داخل ہونے، امتناعی احکامات کی خلاف ورزی، امن برقرار رکھنے کے لیے دیے گئے مچلکے کی خلاف ورزی اور سرکاری اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کے تحت کارروائی کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سورَو داس، آشوتوش رانکا اور سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو 10 اکتوبر کو بھی دہلی پولیس نے اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ ممبئی سے دہلی پہنچے تھے۔ 11 اکتوبر کو ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے تینوں کو 50 ہزار روپے کے مچلکے اور ایک سال تک امن و امان میں خلل نہ ڈالنے کی شرط پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

سی جے پی کے قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ تازہ حراست کے دوران رہنماؤں کو رات گئے تک اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

سی جے پی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔ پارٹی اور دیگر احتجاجیوں کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں میں بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج سے ووٹروں کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔

دہلی پولیس کی جانب سے جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقام کی فہرست سے خارج کیے جانے کے بعد بھی سی جے پی نے وہیں احتجاج جاری رکھنے پر اصرار کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ انتخابی فہرستوں کے معاملے پر اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔


Share: