بنگلورو ، 14/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی)نائب وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا ہے کہ درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے ریزرویشن میں اضافے سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے پر ریاستی کابینہ میں تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے سمیت آئینی اور قانونی دائرے میں دستیاب دیگر امکانات کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
منگل کو سداشیونگر میں اپنی رہائش گاہ کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے بتایا کہ سابق وزیرِ اعلیٰ بسواراج بومئی کی حکومت نے مجموعی ریزرویشن کو 50 فیصد کی حد سے بڑھا کر 56 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے تحت درج فہرست ذاتوں کے لیے ریزرویشن 15 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد اور درج فہرست قبائل کے لیے 3 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے اس سلسلے میں احکامات جاری کرکے اقدامات کیے تھے۔ موجودہ حکومت نے بھی اقتدار میں آنے کے بعد کئی بھرتی کے عمل میں اسی ریزرویشن نظام پر عمل کیا۔ اضافے کو عدالت میں چیلنج کیے جانے پر ریاستی حکومت نے بھی اپنا موقف پیش کرتے ہوئے بڑھے ہوئے ریزرویشن کو برقرار رکھنے کی درخواست کی تھی۔
ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ ریزرویشن کے بنیادی مقصد کو سمجھنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے آئین میں ریزرویشن کی گنجائش محض انتظامی ضرورت کے تحت نہیں رکھی، بلکہ اس کے پیچھے ایک وسیع سماجی مقصد کارفرما تھا۔ ان کے مطابق، صدیوں سے سماجی، تعلیمی اور روزگار کے میدانوں میں مواقع سے محروم طبقات کو انصاف فراہم کرنا اور انہیں سماج کے مرکزی دھارے میں آگے بڑھنے کے مواقع دینا ریزرویشن کی بنیادی غرض ہے۔
ہائی کورٹ کے فیصلے پر اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ کرناٹک کے حالات کو غیر معمولی صورتِ حال کے طور پر دیکھتے ہوئے معاملے پر خصوصی غور کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے تمل ناڈو میں آئینی ترمیم کے ذریعے 69 فیصد ریزرویشن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کرناٹک میں 50 فیصد کی حد سے مزید 6 فیصد اضافے کو بھی ریاست کے سماجی حالات کے تناظر میں خصوصی معاملے کے طور پر زیرِ غور لایا جاسکتا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، جبکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کا آئندہ لائحۂ عمل کابینہ کی مشاورت اور قانونی ماہرین کی رائے کی بنیاد پر طے ہوگا۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے سوال پر ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ کابینہ میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزیرِ اعلیٰ اور کابینہ اس معاملے کے قانونی، آئینی اور انتظامی اثرات پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کریں گے۔
بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے حکومت پر ریزرویشن کے معاملے میں غفلت برتنے کے الزامات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت عدالت کے فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوسکتی۔ جج قانون کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور حکومت کسی مخصوص فیصلے کے لیے عدلیہ پر دباؤ نہیں ڈال سکتی۔ البتہ قانونی طریقۂ کار کے تحت اعلیٰ عدالت میں فیصلے کو چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 56 فیصد ریزرویشن کی بنیاد پر پہلے ہی مکمل ہونے والے تعلیمی داخلوں اور سرکاری تقرریوں پر ہائی کورٹ کے فیصلے کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ فیصلہ پہلے سے مکمل شدہ تقرریوں پر بھی لاگو ہوگا یا صرف آئندہ بھرتیوں تک محدود رہے گا۔ اس سلسلے میں ایڈوکیٹ جنرل اور محکمۂ قانون کے عہدیداروں سے مشاورت کی جائے گی۔
ڈاکٹر پرمیشور کے مطابق، اگر مجموعی ریزرویشن میں کمی کی ضرورت پیش آتی ہے تو داخلی ریزرویشن کے تناسب پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔ تاہم، ان کے بقول، اصل تشویش یہ ہے کہ اس سے مختلف طبقات کو دستیاب مواقع کم ہوسکتے ہیں۔ حکومت آئندہ بھرتیوں اور ملازمت کے امیدواروں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کو بھی پیشِ نظر رکھے گی۔
دہلی میں احتجاج کے دوران وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے دھکا دیے جانے سے متعلق سوال پر ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ بڑے احتجاجی اجتماعات میں بھیڑ کو قابو میں رکھنا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے سابقہ احتجاجی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں اس نوعیت کے واقعات پیش آسکتے ہیں۔
ان کے مطابق، وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کی بنیادی ذمہ داری راہل گاندھی کی حفاظت تھی اور انہیں اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ کوئی شخص آسانی سے ان کے قریب نہ پہنچ سکے۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ بھی اس مقام کی جانب بڑھے اور بھیڑ کے درمیان انہیں معمولی طور پر دھکا لگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی اہلکار ایسے حالات میں کسی عہدے یا پروٹوکول کے بجائے اپنی ذمہ داری کے تحت متعلقہ شخصیت کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہیں۔
ڈاکٹر پرمیشور نے دہلی میں جاری احتجاج کے حوالے سے کہا کہ آئینی اداروں کو آزادانہ اور غیر جانب دارانہ انداز میں کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، انتخابی عمل کی ساکھ اور ووٹروں کے حقِ رائے دہی کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی اور ناموں کی جانچ کے عمل میں شفافیت ضروری ہے۔
انہوں نے کرناٹک میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے دوران تقریباً 1.08 کروڑ افراد کے نام مختلف زمروں میں نشان زد کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 65 لاکھ افراد کو منتقل شدہ ووٹر قرار دیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے، جس کی واضح تشریح ضروری ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں افراد کو منتقل شدہ بتایا جارہا ہے تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ ان کے نام دوسری جگہوں پر ووٹر فہرستوں میں موجود ہیں یا نہیں۔ ان کے مطابق، ووٹروں کے ناموں اور حقِ رائے دہی کے بارے میں کسی قسم کا ابہام دور کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ بعض درخواستوں میں ایک مخصوص برادری کے افراد کے نام بڑی تعداد میں شامل کیے جانے کے الزامات ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسی درخواستیں کہاں تیار اور شائع کی جارہی ہیں، ووٹروں کی معلومات کس طرح حاصل کی جارہی ہیں اور انہیں جمع کرانے کے پیچھے کیا طریقۂ کار ہے۔
بی جے پی رہنماؤں کے اس موقف پر کہ ووٹروں کی معلومات ویب سائٹ پر عام دستیاب ہیں، انہوں نے کہا کہ معلومات کی دستیابی اپنی جگہ، لیکن ان کے استعمال اور ناموں کے خلاف اعتراضات درج کرنے کے عمل میں شفافیت ضروری ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے فارم 7 کی درخواستوں، ووٹر معلومات کے استعمال اور اعتراضات کی جانچ کے طریقۂ کار پر وضاحت دینے کا مطالبہ کیا۔
وائلی کاول اور یشونت پور پولیس اسٹیشنوں میں درج دو مقدمات پر ہائی کورٹ کی جانب سے حکمِ امتناع دیے جانے سے متعلق سوال پر ڈاکٹر پرمیشور نے واضح کیا کہ ان کے اعتراضات عدالت کے خلاف نہیں ہیں۔ ان کے مطابق، سوال الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار، ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل اور اس کے ممکنہ اثرات سے متعلق ہیں۔
خشک سالی اور آفات سے نمٹنے کے سلسلے میں ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ آفت آنے کے بعد امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے پہلے احتیاطی اقدامات اور تیاری کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عام طور پر آفت کے بعد راحت رسانی، ضروری مدد اور بازآبادکاری پر توجہ دی جاتی ہے، لیکن ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی، عوام میں بیداری اور بروقت تیاری سے نقصانات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت قومی سطح کے ایک سیمینار میں آفات سے پہلے تیاری اور احتیاطی تدابیر سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔