بھٹکل، 7 نومبر (ایس او نیوز): غوثیہ اسٹریٹ کے پمپنگ اسٹیشن سے مسلسل گندہ پانی سرابی ندی میں چھوڑے جانے اور اطراف کے مکینوں کو درپیش مسائل سے متعلق ساحل آن لائن سمیت دیگر انگریزی اور کنڑا میڈیا میں رپورٹ شائع ہونے کے بعد، سنیچر کو کاروار سے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر سدانند نے متاثرہ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر بھٹکل سٹی میونسپل کونسل (سی ایم سی) کے کمشنر بابا صاحب مانے اور میونسپل کونسل کے دیگر اہلکار بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔
معائنے کے دوران اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ غوثیہ اسٹریٹ سے گندے پانی کو وینکٹاپور ندی کی طرف پمپ کیے جانے کے باوجود سرابی ندی میں گندہ پانی کیوں پہنچ رہا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ممکنہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں زیادہ صلاحیت والی موٹر نصب کرنے کا امکان بھی شامل تھا۔
مقامی مکینوں نے تاریخی "دھندا کاٹو" عمارت کے قریب پائپ لائن کے ذریعے ندی میں چھوڑے جانے والے گندے پانی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بدبو کی وجہ سے علاقے میں رہنا دشوار ہوگیا ہے اور غیر صحت بخش ماحول کے باعث متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔

سی ایم سی کمشنر بابا صاحب مانے نے بتایا کہ مقامی لوگوں کی شکایات اور مطالبات سے کاروار کے اعلیٰ حکام، بشمول اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر، کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے اور اس کے ممکنہ حل کے تعلق سے متعلقہ محکمے کے افسران سے فون پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔
مانے نے مزید بتایا کہ متعلقہ محکمے کی ایک ٹیم بدھ کے روز بھٹکل پہنچ کر متاثرہ علاقے کا معائنہ کرے گی، مسئلے کے ممکنہ حل کا جائزہ لے گی اور اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
معائنے کے دوران سابق کونسلر فیاض ملا کے علاوہ ذوالفقار، زفیر اور دیگر مقامی نوجوان بھی موجود تھے۔
Related earlier reports:
1. بھٹکل کی سرابی ندی میں گٹر کے پانی کا اخراج بدستور جاری؛ عوام میں ناراضگی، احتجاج کی تیاری