ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دکشن کنڑا اور اڈپی میں تیز برسات سے بھاری نقصان

دکشن کنڑا اور اڈپی میں تیز برسات سے بھاری نقصان

Mon, 15 Jun 2026 13:14:31    S O News
دکشن کنڑا اور اڈپی میں تیز برسات سے  بھاری نقصان

منگلورو/اُڈپی،  15/ جون (ایس او نیوز) تیز ہواؤں کے ساتھ ہوئی بھاری بارش نے ہفتہ کے آخر میں دکشن کنڑا (ڈی کے) اور اُڈپی اضلاع میں تباہی مچائی ہے  جس سے کئی مکانات کو نقصان پہنچا، درخت اکھڑ گئے، اور نشیبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر پانی جمع ہوگیا ۔

 ذرائع سے ملی اطلاع  کے مطابق دکشن کنڑا میں اتوار کی صبح سے دوپہر تک مسلسل بارش کی اطلاع ملی، جس کے بعد بارش آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی ۔ ضلع میں شدید بارش کی وجہ سے تین مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے ۔
    
منگلورو میں مسلسل بارش کی وجہ سے  پڈیل انڈر پاس اور جیپیناموگارو جیسے کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا جس سے عوام کو خاصی تکلیف  کا سامنا کرنا پڑا ۔ 
    
کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کی وجہ سے درختوں کی شاخیں ٹوٹ گئیں جس سے بجلی کی فراہمی میں خلل پڑا۔ سلطان بیٹری کے علاقے میں درخت کی ایک بڑی شاخ سڑک پر گر گئی جس سے گاڑیوں کی آمدورفت کچھ دیر کے لیے رک گئی ۔

ہفتہ اور اتوار کی صبح کے درمیان جنوبی کنڑ میں اوسطاً 14.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ منگلورو میں سب سے زیادہ 18.6 ملی میٹر، اس کے بعد پتور 14.9 ملی میٹر، سولیا 12.6 ملی میٹر، موڈبیدری 11.5 ملی میٹر، بیلتنگڈی 10.6 ملی میٹر، بنٹوال 9.3 ملی میٹر اور کڈبہ 8.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔

اڈپی ضلع میں ہفتہ کی رات سے اتوار کی شام تک بادلوں کی گرج اور بجلیوں کی چمک کے ساتھ شدید بارش ہوئی ۔ 24 گھنٹوں کے دوران ضلع میں اوسطاً 32.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ کاپ میں سب سے زیادہ 57.8 ملی میٹر بارش ہوئی ۔ جبکہ دیگر علاقوں میں اچھی خاصی بارش ریکارڈ کی گئی: اُڈپی 53.2 ملی میٹر، بیندور  38.9 ملی میٹر، برہماور 36.6 ملی میٹر، کنداپور36.1 ملی میٹر، ہیبری 18.6 ملی میٹر اور کارکلا 14.3 ملی میٹربرسات درج کی گئی ہے ۔

کنداپور اور بیندور تعلقہ میں اتوار کی دوپہر تک تیز ہوائیں  چلیں ۔ کئی درخت جڑوں سے اکھڑ  کر مکانات پر گر گئے جس سے بھاری مالی نقصان ہوا ہے ۔ 
    
کندا پور کے   بسرور میں سندرا کھاروی اور سریندر کنی کے مکانات پر درخت گرنے سے 25000 روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ کونی گاؤں میں درخت گرنے سے سمنا کے گھر کو 30 ہزار روپے کا نقصان پہنچا۔  بسرور میں جے ایم روڈ پر واقع سیتھو کے مکانات (30,000 روپے)، عبدالصمد (40,000 روپے) اور جے لکشمی (80,000 روپے) کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ۔

موسلا دھار بارش نے اڈپی بھر میں ناقص شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی بے نقاب کر دیا ۔ صاف نہ کیے گئے نالوں کی وجہ سے قومی اور ریاستی شاہراہوں، اہم ضلعی سڑکوں اور دیہی راستوں پر مصنوعی سیلاب آ رہا ہے۔  بارش کا پانی نالیوں میں بہنے کی بجائے سڑکوں پر ٹھہر گیا جسے ایک طرف گزرتی ہوئی گاڑیاں ایک دوسرے پر اچھالتی رہیں تو دوسری طرف کچی سڑکیں کیچڑ کے دلدل میں تبدیل ہو گئیں ۔
    
کنداپور- بیندور ہائی وے پر تلور بس اسٹینڈ کے قریب پانی جمع ہونے کی وجہ سے ٹریفک میں بہت زیادہ خلل پڑا اور مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اسی طرح  سرجن ہسپتال کے قریب سروس روڈ پر، انکداکٹے اسکول کے قریب ہائی وے پر، اور ٹی ٹی روڈ انڈر پاس اور اس سے ملحقہ سروس روڈ پر بھی پانی جمع گیا ۔ 
    
مقامی لوگوں نے حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نالوں کی صفائی کرائی جائے اور پانی جمع ہونے کے مسائل کا مستقل حل تلاش کیا جائے ۔


Share: