تہران ، 24/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک ریلی کے دوران کہا تھا کہ ہم ایک اور مختصر ’ایپک فیوری‘ منصوبہ بنا سکتے ہیں۔ ’ایپک فیوری‘ وہ نام ہے، جو امریکی فوج نے ایران کے خلاف اپنی اس جنگ کو دیا ہے، جس کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا۔ رائٹرز کے مطابق ایرانی سیکورٹی حکام نے اہم اطلاع دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل مل کر حملہ کرتے ہیں تو سمندر کے نیچے بچھائی گئی انٹرنیٹ کیبلز کو تباہ کر دیا جائے گا۔ ایران نے اس کے لیے پوری تیاری کر لی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہو رہی ہے، جب یہ واضح نہیں ہے کہ جنگ مزید کتنے دنوں تک جاری رہے گی۔ اس حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس جنگ کو جلد ختم کر سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم اسے بہت جلد ختم کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے ابھی ختم کرنا چاہتے ہیں یا اسے خود ہی کمزور پڑنے دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی نقل و حرکت جاری ہے، جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جو کچھ بھی چاہیے، وہ مل رہا ہے۔ ٹرمپ نے اس تنازعہ کے حوالے سے مختلف اہداف اور وقت کی حدیں بتائی ہیں۔ اس ماہ کے آغاز میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ اگلے ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر کوئی حملہ نہیں کرے گا۔ ان انتخابات میں کانگریس (امریکی پارلیمنٹ) پر کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے۔
’دی نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ حملے کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ اہداف میں ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، جوہری تنصیبات اور میزائلوں و ڈرونز کے ذخیرے شامل ہو سکتے ہیں۔ کئی ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعہ کے روز خبردار کیا کہ ایران کے خلاف ایک اور فوجی حملہ تنازعہ کو مزید بڑھا سکتا ہے اور اس کے سنگین معاشی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ یہ بیان استنبول میں ہونے والی ایک میٹنگ کے بعد سامنے آیا، جس میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، ترکیہ، مصر، پاکستان، سعودی عرب اور اٹلی کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔