میڈرڈ، 21/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی )بڑھتی مہنگائی، مہنگے گھر اور سرکاری خدمات کی بگڑتی صورتحال کے خلاف یورپ میں لوگوں کا غصہ سڑکوں پر پھوٹ رہا ہے۔ فرانس، اٹلی اور البانیہ میں احتجاجی مظاہروں کے درمیان گرفتاریوں سے لے کر تشدد تک کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب اسپین اور پرتگال میں گھروں کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف لوگ خیمے لگاکر احتجاج درج کرا رہے ہیں۔ البانیہ کی راجدھانی تیرانا میں حکومت مخالف مظاہرے مسلسل آٹھویں روز بھی جاری رہے۔ اٹلی میں تشدد اور لوٹ پاٹ کے واقعات کے بعد حکومت نے سخت حفاظتی قوانین کو منظوری دی ہے۔ دوسری جانب جنوبی اٹلی میں ٹرک ڈارائیوروں کی ہڑتال سے سپر مارکیٹ اور پٹرول پمپوں پر سامان کی قلت ہونے لگی ہے۔ ہفتے کے آخر میں ہوئے تشدد کے بعد فرانس کے کئی شہروں میں کرفیو کی مدت بڑھا دی گئی ہے۔
البانیہ کی راجدھانی تیرانا میں منگل (20 اکتوبر) کو پولیس نے حکومت مخالف مظاہرین کو پیچھے ہٹانے کے لیے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ احتجاج مسلسل آٹھویں روز بھی پرتشدد رہا۔ احتجاج میں ہائی اسکول اور یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی شامل ہو گئے ہیں۔ وہ ٹیوشن فیس میں کمی، تعلیم پر سرکاری سرمایہ کاری بڑھانے اور تعلیمی نظام میں بدعنوانی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حکومت مخالف وسیع تحریک کے تحت سوشلسٹ وزیر اعظم ایڈی راما سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
البانیہ کے وزیر اعظم ایدی راما نے منگل کو طلبہ اور تیرانا کے اسکولوں کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد مظاہرین پر تشدد کے ذریعہ حکومت کو گرانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی مسائل کو کچھ لوگ جان بوجھ کر تشدد پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مہنگائی، محفوظ مستقبل، گھر اور بہتر مواقع سے متعلق خدشات حقیقی ہیں۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی حکومت نے منگل کو سیکورٹی سے متعلق کئی سخت اقدامات کی منظوری دی۔ ان میں احتجاج کے دوران پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کو نیا جرم قرار دینا، فسادات کے لیے سخت سزائیں اور توڑ پھوڑ یا لوٹ مار میں ملوث نابالغوں کے والدین کو مالی طور پر ذمہ دار ٹھہرانے کا التزام شامل ہے۔ یہ فیصلہ ہفتے کے آخر میں شمالی اٹلی کے کئی شہروں میں ہونے والے تشدد کے بعد لیا گیا۔ مالیاتی مرکز میلان میں نوجوانوں کے گروہوں نے دکانوں کے شیشے توڑے، لوٹ مار کی اور پولیس پر حملے کیے تھے۔ میلونی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ توڑ پھوڑ اور چوری کو احتجاج نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ مجرمانہ سرگرمیاں ہیں۔ نئے قوانین کے تحت کم از کم 5 افراد کے گروپ میں احتجاج کے دوران عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والوں کو 5 سال تک قید اور زیادہ سے زیادہ 20 ہزار یورو جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ چہرہ چھپانے یا کسی کے زخمی ہونے کی صورت میں سزا مزید سخت ہو سکتی ہے۔