بغداد، 3/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)طویل عرصہ تک غیر ملکی اور داخلی جنگ کا سامنا کرنے والے عراق نے شام کی ال یاروبیہ بارڈر کراسنگ کے ذریعے تیل کی برآمد دوبارہ شروع کر دی ہے۔ 70 ٹینکروں کا ایک قافلہ اس راستے سے شام میں داخل ہوگیا ہے جو کہ 14 سالوں میں اس راستے سے اس طرح کی پہلی کھیپ ہے۔ شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ کے مطابق یہ قافلہ بحیرہ روم کے ساحل پر واقع بنیاس ریفائنری کی طرف روانہ ہوا تھا۔
ال یاروبیہ کراسنگ پر تعینات ایک شامی اہلکار فیرس رستم نے کہا کہ اس کراسنگ کا 14 سال بعد دوبارہ کھلنا عراق اور شام کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے کی ایک تزویراتی پہل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے تجارت اور توانائی کی سپلائی کو مزید مؤثر طریقے سے آسان بنایا جاسکے گا اور دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی شراکت داری کو فروغ ملے گا۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراق اپنی تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے کیونکہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز تقریباً مکمل طور پر بند ہے۔ وہیں امریکہ نے ایران کی کئی بندرگاہوں پر ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے۔
دریں اثنا ایکسیوس نے کچھ حکام کے حوالے سے خبر شائع کی ہے جس کے مطابق امریکی سمندری ناکہ بندی سے ایران کو تیل کی آمدنی میں تقریباً 4.8 ارب ڈالر (تقریباً 456 ارب روپے) کا نقصان ہوا ہے۔ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق یہ تخمینہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کا ہے۔ عراق میں رابعہ کے نام سے جانی والی یہ سرحدی گزرگاہ 2011 میں شام کی خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد بند کر دی گئی تھی۔ بعد میں 2014 میں اس پر داعش نے قبضہ کر لیا تھا تاہم اس کے بعد عراقی کرد فورسز نے واپس حاصل کرلیا تھا۔
دریں اثنا، شام کی پیٹرولیم کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ وہ آپریشنل کارکردگی میں اضافہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق سپلائی کے بہاؤ کو تیز کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ بنیاس ریفائنری میں تکنیکی اور انجینئرنگ کے کام کے بعد اب روزانہ تقریباً 500 عراقی ٹینکرز اتارے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات سے ریفائنری کی آپریٹنگ صلاحیت میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔