بنگلورو، 26/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک میں شدید خشک سالی کے باعث بعض علاقوں میں فصلوں کو 80 فیصد تک نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ دنوں میں غذائی اجناس کی پیداوار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ریاست میں فی الحال غذائی اجناس کا مناسب ذخیرہ موجود ہے، تاہم پیداوار میں کمی کی صورت میں غذائی ضروریات کا جائزہ لے کر ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے مرکز میں نمائندگی کرنے والے کرناٹک کے ارکان پارلیمنٹ اور مرکزی وزراء کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر ریاست اور کسانوں کی مدد کرنی چاہیے۔ یہ بات نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہی۔
بنگلورو کے سداشیونگر میں اپنی رہائش گاہ کے قریب میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو معاوضہ فراہم کرنے کے لیے احکامات جاری کیے جاچکے ہیں اور مقررہ ضابطوں کے مطابق کارروائی جاری ہے۔ مالیاتی محکمہ سے منظوری حاصل ہوچکی ہے اور فنڈز جاری ہوتے ہی متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کے ذریعے کسانوں تک معاوضے کی رقم پہنچائی جائے گی۔
ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ وہ وزیر مال کی حیثیت سے بھی مالیاتی محکمہ پر زور دے رہے ہیں کہ معاوضے کی اجرائی میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکز سے نمائندگی کے لیے تمام جماعتوں کے وفد کو لے جانے کی تجویز برقرار ہے، تاہم ملاقات کے لیے وقت طلب کرنے کے باوجود اب تک مرکزی حکومت کی جانب سے وقت نہیں دیا گیا ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے 1,250 کروڑ روپے کی راحت کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ رقم کس انتظامی طریقۂ کار کے تحت مختص کی گئی ہے۔ دوسری جانب قومی آفات سے نمٹنے کے فنڈ (این ڈی آر ایف) کے تحت مرکزی حکومت کی جانب سے راحت فراہم نہ کیے جانے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرکز اور ریاست کے درمیان الزام تراشی سے کسانوں کی مشکلات کم نہیں ہوں گی۔ دونوں حکومتوں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں پر بحث میں وقت ضائع کرنے کے بجائے متاثرہ کسانوں کو راحت پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خشک سالی کے باعث آئندہ دنوں میں غذائی اجناس کی پیداوار توقع کے مطابق نہ ہوئی تو اس کے اثرات لازماً سامنے آئیں گے۔ فی الحال ریاست میں غذائی اجناس کا ذخیرہ دستیاب ہے، لیکن پیداوار میں کمی آنے پر دستیابی کا جائزہ لے کر مناسب اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے مرکزی وزیر ایچ ڈی کماراسوامی سمیت کرناٹک سے تعلق رکھنے والے تمام مرکزی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کو سیاسی عینک سے دیکھنے کے بجائے اجتماعی طور پر کسانوں کی مدد کے لیے آگے آئیں۔
آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی۔جے ڈی ایس اتحاد کو 149 نشستیں ملنے سے متعلق ووٹ اِن انڈیا کے سروے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ انتخابات میں ابھی کافی وقت باقی ہے اور موجودہ سیاسی رجحانات کی بنیاد پر انتخابی نتائج کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ انتخابات کے وقت عوام کا مزاج اور سیاسی حالات زیادہ اہم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ایسے سروے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی، تاہم ان سے اپنی سیاسی صورتحال کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔ پارٹی ان نتائج کو چیلنج سمجھتے ہوئے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے مزید محنت کرے گی۔
کانگریس کی سیاسی امور کمیٹی کی تشکیل کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ممکن ہے وزیر اعلیٰ نے کمیٹی بنانے سے پہلے ہائی کمان سے مشاورت کی ہو۔ اس کمیٹی کا مقصد اہم سیاسی اور پالیسی معاملات پر اجتماعی تبادلۂ خیال اور فیصلوں میں مشاورت کو فروغ دینا ہے، نہ کہ کسی ایک فرد کے ہاتھ میں تمام اختیارات مرکوز رکھنا۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے ارکان اپنی آراء پیش کریں گے اور وزیر اعلیٰ مناسب تجاویز کو قبول یا مسترد کرنے کے لیے آزاد ہوں گے۔ ضرورت پڑنے پر وہ ہائی کمان سے بھی مشورہ کرسکتے ہیں۔ اس خدشے کو مسترد کرتے ہوئے کہ کمیٹی حکومت کے اندر ایک اور مرکزِ اقتدار بن سکتی ہے، ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ یہ صرف اہم پالیسی اور سیاسی امور پر رائے دینے کا فورم ہے اور روزمرہ انتظامی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔
اسٹنگ آپریشن کے تنازع پر مسلسل بحث اور حکومت کی کارکردگی پس منظر میں جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے اسے افسوسناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی انتظامی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے اور اپوزیشن بھی اپنا کردار ادا کررہی ہے، لیکن اگر عوامی بحث صرف ایک تنازع تک محدود ہوجائے تو شہریوں کے مسائل اور ترقیاتی کاموں کو مناسب توجہ نہیں مل پاتی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹنگ آپریشن کے معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور جو بھی قصوروار پایا جائے، اس کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ تاہم، میڈیا میں روزانہ اسی معاملے پر بحث جاری رہنے سے عوام بھی اکتا سکتے ہیں۔ عوام کی توقعات، ان کے مسائل اور حکومت کے ترقیاتی اقدامات کو بھی بحث کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
اسٹنگ آپریشن تنازع میں کانگریس ہائی کمان کی مداخلت کے مطالبے پر ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ فوری طور پر مرکزی قیادت کی مداخلت ضروری نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ اور ریاستی کانگریس صدر کو باہمی مشاورت کے ذریعے ریاستی سطح پر مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے، تاکہ حکومت یا پارٹی کو مزید شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے جنرل سکریٹری اور ریاستی انچارج بھی موجود ہیں، اس لیے ہر معاملے میں ہائی کمان کی مداخلت کا انتظار کرنے کے بجائے مقامی سطح پر مسائل حل کیے جانے چاہئیں۔ کرناٹک میں سینئر قائدین کی ٹیم بھیجے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔