بھٹکل 25/مئی (ایس او نیوز): شرالی تٹی ہککل ندی سانحہ میں لاپتہ آخری ماہی گیر کی لاش بھی پیر کی صبح برآمد کرلی گئی، جس کے بعد اس افسوسناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 11 ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام متوفیوں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم بھٹکل سرکاری اسپتال میں انجام دینے کے بعد ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔
یاد رہے کہ اتوار کے روز 14 ماہی گیر ندی میں مچھلی پکڑنے کے دوران اچانک پانی کی سطح بلند ہونے اور تیز بہاؤ کی زد میں آگئے تھے۔ مقامی لوگوں اور راحت و بچاؤ ٹیموں نے اسی دن 13 افراد کو ندی سے باہر نکال لیا تھا، تاہم ان میں سے 10 افراد کو مردہ قرار دیا گیا، جبکہ شدید زخمی ہونے والے تین ماہی گیروں کو علاج کے لئے منی پال اسپتال منتقل کیا گیا۔ پتہ چلا ہے کہ ان میں سے ایک خاتون کو علاج مکمل کرنے کے بعد بھٹکل لایا گیا ہے، بقیہ دو کا علاج ہنوز جاری ہے۔
ایک لاپتہ ماہی گیر کی تلاش کے لئے پوری رات سرچ آپریشن جاری رکھا گیا، جس کے بعد پیر کی صبح اس کی لاش بھی برآمد ہوئی۔ متوفی کی شناخت پڈو شرالی کے رہنے والے 52 سالہ مادیو بیرپا نائک کے طور پر کی گئی ہے۔
ندی کے تیز بہاؤ میں بہہ جانے سے 11 ماہی گیروں کی ہلاکت کا یہ واقعہ بھٹکل کی حالیہ تاریخ کے بدترین سانحات میں شمار کیا جارہا ہے۔ اس المناک حادثے نے پورے ساحلی شہر کو سوگوار کردیا ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق گیارہ لوگوں کے ہلاک ہوجانے سے ان کے 24 بچے یتیم ہوگئے ہیں۔