ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پیپر لیک، بے ضابطگیاں اور بے روزگاری؛ کھرگے نے حکومت کی کارکردگی پر اٹھائے سوال

پیپر لیک، بے ضابطگیاں اور بے روزگاری؛ کھرگے نے حکومت کی کارکردگی پر اٹھائے سوال

Sun, 31 May 2026 18:01:30    S O News

نئی دہلی ، 31/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے تعلیمی نظام، امتحانات میں بے ضابطگیوں اور نوجوانوں کے مسائل کو لے کر مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک تفصیلی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک کے نوجوانوں کو بدعنوانی کے جال میں پھنسا کر تعلیمی نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ملکارجن کھرگے نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ حکومت نوجوانوں کو ’ایگزام واریئر‘ بنانے کی بات کرتی رہی لیکن جب طلبہ نے سوال اٹھائے تو انہیں مختلف القابات دے کر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے امتحان دینے والے طلبہ ہوں یا قومی اہلیت و داخلہ امتحان کے امیدوار، نوجوانوں کو مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک وقت تھا جب انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، مرکزی جامعات اور دیگر قومی ادارے ملک کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے لیکن اب حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ ایک بورڈ امتحان کا انعقاد بھی تنازعات سے محفوظ نہیں رہ پاتا۔ ان کے مطابق یہ صورت حال حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

کانگریس صدر نے کہا کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو کمزور کیا گیا، مرکزی جامعات میں انتقامی سیاست کو فروغ دیا گیا اور قومی کونسل برائے تعلیمی تحقیق و تربیت کی کتابوں سے تاریخ کے اہم حصے ہٹا دیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جامعات میں طلبہ کی آواز دبائی گئی، مختلف تحریکوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں اور وائس چانسلروں کی تقرریوں میں نظریاتی مداخلت کی گئی۔

ملکارجن کھرگے نے دعویٰ کیا کہ ملک میں ہزاروں سرکاری اسکول بند کیے گئے اور تعلیم کے بجٹ میں مسلسل کمی کی گئی۔ ان کے مطابق نوجوان جب بھی اپنے مسائل کے لیے سڑکوں پر آئے یا نئی نسل نے اپنی آواز بلند کی تو ان کی بات سننے کے بجائے انہیں دبانے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہی جبکہ مختلف بھرتی امتحانات میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں نے نوجوانوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور روزگار سے متعلق معاملات میں حکومت کو جواب دہ ہونا چاہیے۔

کھرگے نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک علامتی تصویر بھی شیئر کی۔ تصویر کے اوپری حصے میں وزیر اعظم نریندر مودی ایک بڑی اسکرین پر ’پریکشا پر چرچا‘ پروگرام کے دوران نظر آ رہے ہیں جبکہ سامنے کلاس روم میں بیٹھے طلبہ انہیں دیکھ رہے ہیں۔ تصویر کے نچلے حصے میں پریشان اور فکرمند طلبہ کو دکھایا گیا ہے، جن کے ارد گرد مختلف امتحانی تنازعات، سوالیہ پرچوں کے افشا ہونے اور امتحانی نظام سے متعلق خبروں کی سرخیاں نمایاں ہیں۔ تصویر پر درج عبارت میں طلبہ کو ’ایگزام واریئرز‘ سے ’پیپر لیک کے متاثرین‘ بننے کی علامتی تصویر کشی کی گئی ہے۔


Share: