ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پونے: چلتی ایمبولینس سے مریض اسٹریچر سمیت سڑک پر گرا؛ ڈرائیور اور وارڈ بوائے معطل

پونے: چلتی ایمبولینس سے مریض اسٹریچر سمیت سڑک پر گرا؛ ڈرائیور اور وارڈ بوائے معطل

Tue, 13 Oct 2026 12:54:29    S O News
پونے: چلتی ایمبولینس سے مریض اسٹریچر سمیت سڑک پر گرا؛ ڈرائیور اور وارڈ بوائے معطل

پمپری-چنچواڑ، 13 /اکتوبر (ایس او نیوز) مہاراشٹر کے پمپری-چنچواڑ میں یشونت راؤ چوہان میموریل اسپتال (وائی سی ایم) کی ایک چلتی ایمبولینس کا پچھلا دروازہ کھل جانے سے مریض اسٹریچر سمیت سڑک پر گر گیا۔ یہ واقعہ اسپتال  کے قریب ہی پیش آیا اور وہاں موجود لوگوں نے اس کی ویڈیو بنا لی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ واقعے کے بعد اسپتال میں مریضوں کی منتقلی کے دوران حفاظتی انتظامات اور عملے کی ذمہ داری پر سوالات اٹھنے لگے۔  میڈیا رپورٹس کے مطابق، واقعے کے سلسلے میں ایمبولینس ڈرائیور اور وارڈ بوائے کو معطل بھی کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 10 اکتوبر، ہفتہ کو پیش آیا۔ ایمبولینس پمپری-چنچواڑ میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام وائی سی ایم اسپتال کی تھی، جہاں سے مریض کو علاج کے لیے سرکاری ساسون جنرل اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق مریض بے گھر تھا اور پولیس نے اسے دیہو روڈ کے قریب تشویشناک حالت میں پائے جانے کے بعد وائی سی ایم اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ اس کے پیروں میں انفیکشن شدید ہوچکا تھا اور زخموں میں کیڑے پڑ گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق، وائی سی ایم اسپتال میں مریض کے آپریشن کے لیے ضروری سیپٹک آپریشن تھیٹر کی سہولت دستیاب نہیں تھی، اس لیے اسے ساسون اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایمبولینس کے اسپتال سے روانہ ہوتے ہی اس کا پچھلا دروازہ کھل گیا، جس کے نتیجے میں مریض کو لے جانے والا اسٹریچر سڑک پر جا گرا۔ ویڈیو میں مقامی افراد کو مریض اور اسٹریچر کو سڑک کے کنارے محفوظ مقام پر منتقل کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ کچھ دیر بعد ایمبولینس واپس موقع پر پہنچی۔ اسپتال کے ڈین ڈاکٹر راجندر وابلے کے مطابق مریض کو اس واقعے میں کوئی چوٹ نہیں آئی

رپورٹس کے مطابق، ایمبولینس میں مریض کے ساتھ موجود وارڈ بوائے کو پچھلے حصے میں رہنا چاہیے تھا، لیکن وہ ڈرائیور اور ایک پولیس اہلکار کے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھا تھا۔ اسپتال انتظامیہ نے ابتدائی طور پر خدشہ ظاہر کیا کہ اسٹریچر کو صحیح طریقے سے لاک نہیں کیا گیا تھا اور ایمبولینس کا پچھلا دروازہ بھی مناسب طور پر بند نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم، متعلقہ ملازمین نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسٹریچر کو صحیح طریقے سے محفوظ کیا تھا اور واقعہ آلات میں خرابی کے باعث پیش آیا۔ اسپتال انتظامیہ نے کہا کہ اندرونی تحقیقات میں اصل وجوہات کا تعین کیا جائے گا۔

واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شہریوں نے ایمبولینس عملے سے جواب طلب کیا اور مریضوں کی حفاظت میں غفلت پر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق، اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ابھے دادےوار نے بتایا کہ ایمبولینس ڈرائیور اور اسٹریچر کو محفوظ بنانے کے ذمہ دار وارڈ بوائے کو داخلی تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کردیا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے ان دونوں کو فراہم کرنے والے نجی کنٹریکٹر کو بھی انتباہ جاری کیا اور تمام متعلقہ عملے کو ہدایت دی کہ ایمبولینس روانہ کرنے سے پہلے اسٹریچر کے لاک اور پچھلے دروازے کی بندش کی اچھی طرح جانچ کی جائے۔

اس واقعے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ویڈیو دیکھ کر مریض کے اہل خانہ اسپتال پہنچے۔ 50 سالہ مریض دیہو روڈ کا رہائشی تھا اور تقریباً دو ہفتے سے لاپتہ تھا۔ اس کے بیٹے نے سوشل میڈیا پر ویڈیو دیکھی تو اسپتال سے رابطہ کیا، جس کے بعد خاندان سے اس کی دوبارہ ملاقات ممکن ہوئی۔ مریض کا علاج ساسون جنرل اسپتال میں جاری تھا۔ 


Share: