ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / آسنسول میں کانگریس کارکن کے قتل پر ہنگامہ، راہل گاندھی کا ٹی ایم سی پر سنگین الزام، فوری گرفتاری کا مطالبہ

آسنسول میں کانگریس کارکن کے قتل پر ہنگامہ، راہل گاندھی کا ٹی ایم سی پر سنگین الزام، فوری گرفتاری کا مطالبہ

Sun, 26 Apr 2026 18:17:02    S O News

نئی دہلی ،26/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے مغربی بنگال کے آسنسول میں کانگریس کارکن دیب دیپ چٹرجی کے قتل کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے کارکنان پر دیب دیپ کے قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مغربی بنگال میں آج جمہوریت نہیں بلکہ ٹی ایم سی کا غنڈہ راج چل رہا ہے۔

راہل گاندھی نے اتوار (26 اپریل) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’کانگریس کارکن دیب دیپ چٹرجی کا ووٹنگ کے بعد ٹی ایم سی سے وابستہ غنڈوں کے ہاتھوں قتل، انتہائی قابل مذمت ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کارکن دیب دیپ چٹرجی کے اہل خانہ سے اپنی دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’مغربی بنگال میں آج جمہوریت نہیں بلکہ ٹی ایم سی کا غنڈہ راج چل رہا ہے۔ ووٹنگ کے بعد مخالف آوازوں کو ڈرانا، دھمکانا اور ختم کر دینا ہی اب ٹی ایم سی کا کردار بن چکا ہے۔‘‘

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’کانگریس کی سیاست کبھی تشدد پر مبنی نہیں رہی اور نہ کبھی ہوگی۔ ہم نے بھی اپنے کارکن کھوئے ہیں، اس کے باوجود ہم نے ہمیشہ عدم تشدد اور آئین کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہی ہماری وراثت ہے اور یہی ہمارا عزم ہے۔‘‘ ساتے ہی انہوں نے لکھا کہ ’’مطالبہ واضح ہے، تمام مجرموں کی فوری گرفتاری ہو، انہیں سخت ترین سزا دی جائے اور دیب دیپ کے خاندان کے لیے مکمل تحفظ اور معاوضے کو یقینی بنایا جائے‘‘ راہل گاندھی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ہم اس سیاست کے سامنے نہیں جھکیں گے جو ہندوستان کی عدم تشدد کی روایت کو داغدار کرتی ہے۔ انصاف ہو کر رہے گا۔‘‘

راہل گاندھی سے قبل کانگریس کی مغربی بنگال یونٹ نے الزام عائد کہ دیب دیپ پر حکمراں جماعت ترنمول کانگریس سے وابستہ شرپسندوں نے حملہ کیا اور انہیں بے رحمی سے پیٹا، جس کے کچھ ہی دیر بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ کانگریس کی ریاستی اکائی کے مطابق دیب دیپ چٹرجی کو آسنسول نارتھ سے کانگریس امیدوار پرسین جیت پوئی تانڈی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے جانا جاتا تھا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’یہ افسوسناک واقعہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال کے مکمل طور پر تباہ ہونے کی عکاسی کرتا ہے اور مغربی بنگال میں اپوزیشن کارکنان کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ یہ حقیقت کہ ووٹنگ کے فوراً بعد اس طرح کا تشدد ہوا، سیاسی دھمکیوں اور انتقامی جذبے کے ایک انتہائی تشویشناک رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘


Share: