بنگلورو، 6/اپریل (پی ٹی آئی/ایس او نیوز) آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا نے اتوار کے روز مرکز میں برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کی قیادت والی حکومت پر کرناٹک کے خلاف “اینٹی کنڑڈیگا انتقامی سیاست” اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریاست کو اس کے تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کے واجبات سے محروم رکھا گیا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے سرجے والا نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے کرناٹک کے ساتھ “سوتیلا سلوک” اور ریاست کے حقوق کو نظر انداز کرنے کا معاملہ اب پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کرناٹک بی جے پی کی خاموشی دراصل اس ناانصافی کی تائید کے مترادف ہے، اور پارٹی نے ریاست کے عوام کے ساتھ “دھوکہ” کیا ہے، اس لیے وہ عوام کے ووٹ کی حقدار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے زرعی، آبپاشی، دفاعی اور بنیادی ڈھانچے کے اہم منصوبوں کو دانستہ طور پر روکا جا رہا ہے، جو کرناٹک کے خلاف ایک منظم سازش کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل ریاست کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔
سرجے والا نے الزام عائد کیا کہ مرکز نے بجٹ میں حصہ، گرانٹس اور دیگر مالی واجبات کی ادائیگی میں بھی ناانصافی برتی ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 14ویں اور 15ویں مالیاتی کمیشن کے تحت کرناٹک کو تقریباً 79,770 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، جبکہ جی ایس ٹی کے “غیر سائنسی نفاذ” کے باعث 59,274 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ مزید برآں جی ایس ٹی کی نئی درجہ بندی پالیسی کے نتیجے میں تقریباً 9,000 کروڑ روپے کا براہ راست خسارہ ہوا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجموعی طور پر کرناٹک کے عوام کو تقریباً 1,97,257 کروڑ روپے، یعنی قریب 2 لاکھ کروڑ روپے کا مالی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی کے قائدین داونگیرے جنوبی اور باگلکوٹ جیسے حلقوں میں ووٹ مانگنے سے قبل اس کا جواب دیں گے؟
سرجے والا نے مختلف زیر التوا منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپر بھدرا ندی پروجیکٹ، مہادائی (کلاسا-بندوری) منصوبہ، یتّیناہولے پینے کے پانی کا منصوبہ اور میکے داٹو آبپاشی و ڈرنکنگ واٹر پروجیکٹ جیسے اہم منصوبے مرکز کی منظوری کے منتظر ہیں، مگر بی جے پی کے کرناٹک سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزراء اور عوامی نمائندے اس معاملے پر خاموش ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرناٹک کو دفاعی راہداری (ڈیفنس کوریڈور) دینے سے بھی محروم رکھا گیا، جبکہ ملک کی ایرو اسپیس اور دفاعی پیداوار میں ریاست کا حصہ 67 فیصد ہے۔ اسی طرح منگلورو میں پلاسٹک پارک کے لیے ڈی پی آر منظوری بھی دانستہ طور پر روکی گئی ہے۔
کانگریس لیڈر نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ ریاست میں کانگریس حکومت کی پانچ ضمانتی اسکیموں—شکتی، گرہا لکشمی، گرہا جیوتی، یووا ندھی اور انا بھاگیہ—کی مخالفت کر رہی ہے، حالانکہ ان اسکیموں کے ذریعے اب تک 1.31 لاکھ کروڑ روپے براہ راست عوام کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔
سرجے والا نے کہا کہ بی جے پی کی “سازش” اور “کنڑڈیگا مخالف انتقامی سیاست” پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے، اور پارٹی کے مرکزی و ریاستی قائدین کو اس پر عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔