نئی دہلی ، 13/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)ملک میں ’اسپیم کالز‘ اور ’میسجز‘ کی تعداد میں بے تحاشہ اضافے سے ٹیلی کام ریگولیٹری ادارہ ٹرائی کیساتھ سیکوریٹی ایجنسیاں بھی تشویش میں مبتلا ہوگئی ہیں۔ حال ہی میں ٹرائی نے رپورٹ جاری کی، جس کے مطابق ۲۷۔۲۰۲۶ءکی پہلی سہ ماہی یعنی اپریل سے جون کے دوران ملک میں۲۴ء۴؍ ارب سے زیادہ اسپیم کالز اور پیغامات درج کئے گئے ہیں۔ اگر اسے روزانہ کی بنیاد پر دیکھا جائے تو یہ تعداد تقریباً۲۶؍ کروڑ اسپیم کمیونی کیشن کے برابر ہوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک کے موبائل نیٹ ورک کی سیکوریٹی پر بڑا سوال قائم کرتے ہیں۔
ٹیلی کام کمپنیوں نے اسپیم کال کرنے والوں اور جعل سازوں کو پکڑنے کے لئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) تعینات کر رکھا ہے۔ ٹرائی اور ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے تعینات کیے گئے جدید اے آئی پر مبنی اسپیم ڈٹیکشن سسٹم نے مجموعی طور پر۲۲ء۹۹؍ ارب، یعنی تقریباً۲۳۰۰؍ کروڑ سے زیادہ مشتبہ کالز کی شناخت کی ہے، جو عام لوگوں کو دھوکہ دینے یا پریشان کرنے کیلئے کی جا رہی تھیں۔ یہ ملک میں آنے والی کل کالز کا تقریباً۳ء۲؍ فیصد ہے۔ اسکے علاوہ،۱ء۴۴؍ ارب یعنی۱۴۴؍ کروڑ سے زیادہ مشتبہ اسپیم پیغامات کو بھی اے آئی نے بروقت فلیگ یا ٹریک کیا ہے۔ ان اسپیم کالز کو روکنے کیلئے حکومت اور ٹرائی نے مل کر ابتک کی سب سے بڑی کارروائی کی ہے۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے۱ء۸۳؍ لاکھ سے زیادہ ٹیلی کام وسائل پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ان میں سے۱ء۳۷؍ لاکھ سے زیادہ نمبروں کو پہلی بار غلطی کرنے پر۱۵؍دن کیلئے امتناع کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بار بار قوانین کی دھجیاں اڑانے والے ۴۶؍ہزار ۷۸۶؍ کنکشنز کو براہ راست ایک سال کیلئے منقطع کر دیا۔ اس کے علاوہ اسپیم اور دھوکہ دہی پر مبنی پیغامات بھیجنے والے۲۶۳؍ بلک میسیجزبھیجنے والوں کو مکمل طور پر بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔ ٹرائی نے ریلائنس جیو، ایئرٹیل اور ووڈا فون آئیڈیا جیسی بڑی کمپنیوں پر بھی کروڑوں روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے، کیونکہ یہ کمپنیاں اپنے نیٹ ورک پر اسپیم بھیجنے والوں کو روکنے میں غفلت برتتی پائی گئی تھیں۔
اسپیم کالز میں اضافے کے متعلق سیکوریٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ بڑے پیمانے پر ہونے والی اسپیم کمیونی کیشن کے پیچھے صرف سامان فروخت کرنے والی کمپنیاں ہی نہیں ہیں، بلکہ سائبر جرائم پیشہ افراد کے بڑے گروہ بھی سرگرم ہیں۔ ان اسپیم کالز اور پیغامات کا ایک بڑا حصہ بینکنگ فراڈ، جعلی کے وائی سی اپ ڈیٹ، قرض کے جھوٹے آفرز اور یو پی آئی فراڈ سے متعلق ہوتا ہے۔ یہ جعلساز اکثر سرکاری افسر یا معروف کمپنیوں کے نمائندے بن کر لوگوں کو کال کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف عام لوگوں کی رقم ضائع ہو رہی ہے، بلکہ ملک کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم پر سے اعتماد بھی کم ہو رہا ہے۔