بنارس ، 7/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) رمضان مہینے میں بنارس میں گنگا میں ایک کشتی پر افطار کرنے کے معاملے میں پولیس کی سخت ترین کارروائی کے نتیجے میں گرفتار کئے گئے افراد کو ابھی تک ضمانت نہیں مل سکی ہے، اسی دوران دریائے گنگا میں ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے۔ پیر کو ایک نیا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا، جس میں کچھ افراد کو کشتی پر بیئر پیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد انصاف پسند حلقوں کا کہنا ہے کہ افطار معاملے میں تو پولیس نے سخت کارروائی کی لیکن بیئر معاملے کے تئیں اس کی سرد مہری دیکھی جارہی ہےجس سے اس کے کام کرنے کے طریقے کا اندازہ ہوتا ہے۔
بنارس کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس ڈاکٹر اتل انجان ترپاٹھی نے بتایا کہ وائرل ویڈیو کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، گزشتہ اتوار کو’اشٹمی‘ کے موقع پر ملاح برادری کی جانب سے روایتی طور پر ’بدھاوا‘ (مذہبی جلوس) ادل پورہ واقع شیتلا دھام لے جایا جاتا ہے۔ ملاح سماج کے لوگ بڑی تعداد میں کشتیوں اور بجروں پر سوار ہو کر دھوم دھام سے روانہ ہوتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ ویڈیو اسی دوران بنایا گیا ہے، تاہم پولیس ابھی اس کی تصدیق کر رہی ہے۔
معلوم ہو کہ رمضان کے دوران دریائے گنگا میں ایک کشتی میں افطار پارٹی کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعدپولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ۱۴؍افراد کوگرفتارکر کے جیل بھیج دیا تھا۔ الزام تھا کہ نوجوانوںنے اس موقع پر بریانی کھاکر ہڈیاں گنگا میں پھینکی تھیں۔ بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے مہانگر صدر رجت جیسوال کی شکایت پر مذکورہ کارروائی کی گئی تھی۔ گرفتار لوگوں کو آج تک ضمانت نہیں مل سکی ہے۔اب جبکہ گنگا بیئر پارٹی کا یہ معاملہ سامنے آیا ہے تو بی جے پی اور اس کے حامیوں کی طرف سے پوری طرح خاموشی برتی جارہی ہے۔ اس تعلق سے سوشل میڈیا پر سرگرم صحافی ذاکر علی تیاگی نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بنارس کی اسی گنگا ندی میں ڈی جے کے ساتھ بیئر پارٹی ہو رہی ہے، جس میں افطار پارٹی کرنے کی وجہ سے ایک درجن مسلم نوجوانوں کو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔