نئی دہلی، 7/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے ملک کی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے مالیاتی پوزیشن کی مضبوطی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پیر کو کہا کہ گزشتہ دہائی کی اصلاحات کی وجہ سے آج کے چیلنجنگ دور میں بھی حکومت کے پاس سرمائے کے پروگراموں کو برقرار رکھنے اور ریزرو بینک کے پاس شرحِ سود میں کٹوتی کی گنجائش موجود ہے۔
سیتارمن نے آج یہاں مالیاتی تحقیقی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فنانس اینڈ پالیسی کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ایک اچھی پبلک فنانس پالیسی مالیاتی پالیسی کے اتار چڑھاؤ سے-خاص طور پر اقتصادی سست روی کے دوران منفی حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔ آج زیادہ قرضوں اور بڑے خسارے والے کئی ممالک کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا ہے اور انہیں کفایت شعاری اور عدم استحکام کے درمیان مشکل انتخاب کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان میں حکومت کے پاس کیپٹل ایکسپینڈیچر (سرمایہ کاری) کے پروگرام کو برقرار رکھنے، آر بی آئی کے ذریعے شرحِ سود میں کٹوتی کرنے اور متاثرہ شعبوں کو ہدف بنا کر مدد فراہم کرنے کی گنجائش ہے۔ یہ ایک دہائی کے مالیاتی نظم و ضبط کا ثمر ہے۔‘‘
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ مالیاتی تدبر کی اسٹریٹجک طاقت ہے جو کئی دہائیوں تک فائدہ دیتی ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ اسی صلاحیت کی وجہ سے حکومت عالمی بحران کے دور میں ڈیزل اور پیٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کے قابل ہوئی ہے اور اہم پیٹرو کیمیکل مصنوعات پر خصوصی چھوٹ دی گئی ہے۔ انہوں نے عوامی مالیات کے ایک ایسے پہلو پر روشنی ڈالی جس پر علمی اور پالیسی ساز بحثوں میں کم توجہ دی جاتی ہے، اور وہ ہے حکومت کے اخراجات کا وقت۔ انہوں نے اسی تناظر میں کہا کہ نہ صرف یہ کہ کیا خرچ کرنا ہے یا کتنا خرچ کرنا ہے، بلکہ کب خرچ کرنا ہے، یہ بھی بہت اہم ہے۔
سیتارمن نے کہاکہ ’’عوامی اخراجات کے وقت کا تعین بذاتِ خود ایک میکرو اکنامک ٹول ہے-جسے میں `بروقت کارکردگی کہہ سکتی ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے اپنے بجٹ مختص کرنے کے لیے جسٹ ان ٹائم ریلیز پر زور دیا ہے اور پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم کا مکمل استعمال کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ایف ایم ایس کے ذریعے مرکزی اسپانسر شدہ اسکیموں کے تحت فنڈز کے اجرا کے لیے ایس این اے اسپرش ماڈل نافذ کیا گیا ہے۔ اس نے فنڈز کی منتقلی کے نظام کو ’کریڈٹ پش‘ (ایجنسیوں کو پہلے سے فنڈز جاری کرنا) سے ’ڈیبٹ پل‘ پر مبنی نظام میں تبدیل کر دیا ہے، جس میں مرکزی خزانے سے رقم اسی وقت نکلتی ہے جب نفاذ کرنے والی ایجنسی ادائیگی کی ہدایات جاری کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ڈھانچے کے تحت فنڈز براہِ راست آخری فائدہ اٹھانے والے (بنیفشری) کے اکاؤنٹ میں جا سکتے ہیں، جس سے مالیاتی وسائل کی بچت ہوتی ہے۔