نئی دہلی ، 21/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی )مبینہ ’ووٹ چوری‘ معاملہ پر کانگریس نے ایک بار پھر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس بار کانگریس نے انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ ’ای سی آئی نیٹ‘ کا پورا کنٹرول سنٹرلائزڈ ہے۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ووٹ چوری کا پورا کھیل دہلی سے ہو رہا ہے، ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوئی ہے۔ ’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ ای سی آئی نیٹ کا پورا کنٹرول سنٹرلائزڈ ہے۔‘‘
اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے الیکشن کمشنرز کے ذریعہ اعتراضات پر مبنی خطوط کا بھی ذکر کیا ہے۔ پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’آپ کو یاد ہوگا، 2 الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے بھی ای سی آئی نیٹ سے متعلق اعتراض ظاہر کیا تھا۔ اب پھر یہ بات سامنے آئی ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ’’مودی-گیانیش کی جوڑی نے ’ووٹ چوری‘ کے لیے اپنی منمانی چلائی اور ایسا سسٹم تیار کیا جس میں کوئی ان کے فرضی واڑے (دھوکہ دہی) کی جانچ ہی نہ کر پائے۔‘‘
کانگریس نے مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے اس معاملہ میں ملوث اشخاص کو غدار ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ ان کے لیے کسی بھی طرح کی معافی نہیں ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’اب ان کا سارا کالا چٹھا باہر آ چکا ہے اور ’ووٹ چوری‘ پکڑی گئی ہے۔ اس غداری کی کوئی معافی نہیں ہے۔ سزا ضرور ملے گی۔‘‘ کانگریس نے ’ووٹ چوری‘ سے متعلق ایک دیگر پوسٹ میں ویڈیو شیئر کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے جھوٹ سے پردہ اٹھایا ہے۔ شیئرڈ ویڈیو دراصل 2 مختلف ویڈیو کا کولاج ہے۔ ایک ویڈیو میں گیانیش کمار کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ’’ایس آئی آر کا واضح نعرہ تھا، کوئی اہل ووٹر چھوٹے نہیں اور نااہل ووٹر ’ووٹر لسٹ‘ میں نہ آنے پائے۔‘‘ ویڈیو کے دوسرے حصہ میں ایک خاتون نیوز اینکر کہتی ہے کہ ’’دینک بھاسکر کو الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر ملی ووٹر لسٹ میں وکاس یادو نام کی انٹری 14 جگہ ملی۔ بوتھ نمبر 423 میں کئی سیریل نمبر وکاس یادو نام سے ہیں اور بوتھ نمبر 222 میں بھی 4 سیریل نمبر وکاس یادو کے ہی نام سے ہیں۔‘‘ یہ اینکر کچھ دیگر ناموں کا بھی ذکر ویڈیو میں کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ کانگریس نے کیپشن لگایا ہے ’’ووٹ چوری کا ہتھیار- ایس آئی آر۔‘‘