نئی دہلی ، 9/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)ڈی ایم کے (دراوڑ منیتر کژگم) نے لوک سبھا میں اپنے اراکین پارلیمنٹ کے بیٹھنے کا انتظام بدلنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ پارٹی نے اس سلسلے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھا ہے۔ ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ کے ذریعہ تحریر کردہ اس خط میں کہا گیا ہے کہ کانگریس کے ساتھ پارٹی کا سیاسی اتحاد ختم ہو چکا ہے، اس لیے پارلیمنٹ کے اندر ڈی ایم کے اراکین پارلیمنٹ کا کانگریس اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ بیٹھنا اب موجودہ حالات میں مناسب نہیں مانا جا سکتا۔
قابل ذکر ہے کہ تمل ناڈو کی سیاست میں حالیہ دنوں میں کئی طرح کی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ڈی ایم کے اور کانگریس کے رشتوں میں آئی تلخی اب پارلیمنٹ تک پہنچتی نظر آ رہی ہے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ سیٹنگ نظام بدلنے کا مطالبہ صرف رسمی نہیں ہے، بلکہ اتحاد ٹوٹنے کا عوامی اشارہ بھی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈی ایم کے چاہتی ہے کہ اس کے اراکین پارلیمنٹ کو لوک سبھا میں الگ بلاک میں سیٹ الاٹ کی جائے تاکہ پارٹی کی نئی سیاسی حالت واضح طور پر دکھائی دے سکے۔
دراصل لوک سبھا میں سیٹوں کا نظام صرف بیٹھنے کا معاملہ نہیں ہوتا بلکہ سیاسی فارمولوں اور پارٹیوں کے درمیان رشتوں کی علامت بھی تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے میں ڈی ایم کا یہ قدم قومی سیاست میں نئے پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالانکہ اس معاملہ میں لوک سبھا سکریٹریٹ یا اسپیکر دفتر کی طرف سے ابھی تک کوئی آفیشیل رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ کنی موژی کے اس خط نے پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس سے قبل سیاسی مباحث کو تیز کر دیا ہے۔