نئی دہلی، 4 مئی (ایس او نیوز): ہندستان کی پانچ اہم ریاستوں—مغربی بنگال، تمل ناڈو، آسام، کیرالا اور پڈوچیری—کے اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج نے ملک کی سیاسی سمت کو نمایاں طور پر بدل دیا ہے۔ ان انتخابات کو 2029 کے عام انتخابات سے قبل ایک اہم سیاسی اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں ایک جانب نریندا مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی گرفت مضبوط کی ہے، وہیں اپوزیشن جماعتوں کو کئی محاذوں پر سخت دھچکا پہنچا ہے۔
مغربی بنگال: ممتا کا قلعہ منہدم
294 نشستوں پر مشتمل مغربی بنگال اسمبلی میں اس بار ایک غیر معمولی تبدیلی دیکھنے کو ملی، جہاں بی جے پی نے تقریباً 190 سے زائد نشستیں حاصل کرتے ہوئے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اس کے برعکس آل انڈیا ترنمول کانگریس کو تقریباً 80 نشستوں تک محدود ہونا پڑا، جو اس کے لیے ایک بڑی سیاسی شکست سمجھی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ ممتابنرجی کی جماعت طویل عرصے سے ریاست میں ناقابلِ تسخیر سمجھی جاتی تھی، تاہم اس بار بی جے پی کی جارحانہ انتخابی مہم، ووٹر سطح پر تبدیلی اور مبینہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی جیسے عوامل نے سیاسی منظرنامہ بدل دیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرس نے اپنی رپورٹ میں اسے بی جے پی کی “تاریخی پیش قدمی” قرار دیتے ہوئے لکھا کہ بنگال میں یہ کامیابی قومی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔
آسام: بی جے پی کی مسلسل تیسری جیت
126 نشستوں والی آسام اسمبلی میں بی جے پی نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے مسلسل تیسری بار حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ اس کے برعکس کانگریس ایک بار پھر خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، ریاست میں بی جے پی کی تنظیمی مضبوطی اور قیادت کی مقبولیت اس جیت کے اہم عوامل رہے، جب کہ کانگریس اندرونی اختلافات اور کمزور زمینی نیٹ ورک کا شکار رہی۔
کیرالا: کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ
140 رکنی کیرالا اسمبلی میں اس بار اقتدار کی تبدیلی دیکھنے کو ملی، جہاں کانگریس کی قیادت والے اتحاد نے 100 سے زائد نشستیں حاصل کرتے ہوئے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے، جبکہ بائیں بازو کے اتحاد کو نمایاں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا نے اس تبدیلی کو “ایک دور کا اختتام” قرار دیتے ہوئے لکھا کہ عوامی ناراضگی اور اینٹی انکمبنسی اس نتیجے کی بنیادی وجوہات رہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں طویل عرصے سے جاری بائیں بازو کی حکمرانی کا سلسلہ ٹوٹ گیا ہے۔
تمل ناڈو: فلم اسٹار کا سیاسی دھماکہ
234 نشستوں پر مشتمل تمل ناڈو اسمبلی میں سب سے حیران کن نتیجہ سامنے آیا، جہاں فلمی اداکار Vijay کی دو سال پرانی جماعت نے روایتی DMK اور AIADMK کے دو جماعتی نظام کو چیلنج کرتے ہوئے نمایاں کامیابی حاصل کی۔
ریاست کے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن کو بھی سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا، اور بعض حلقوں میں ان کی پوزیشن کمزور دیکھی گئی۔ انڈین اکسپریس نے اپنی رپورٹ میں اس نتیجے کو “سیاسی زلزلہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان ووٹروں کے رجحان میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
پڈوچیری: این ڈی اے کو برتری
30 نشستوں پر مشتمل پڈوچیری اسمبلی میں این ڈی اے اتحاد کو برتری حاصل ہوئی ہے، جہاں مخلوط نتائج کے باوجود بی جے پی اور اس کے اتحادی حکومت سازی کی پوزیشن میں نظر آ رہے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، یہاں نتائج بکھرے ہوئے ضرور رہے، لیکن مجموعی طور پر این ڈی اے کو سیاسی فائدہ حاصل ہوا ہے۔
قومی منظرنامہ: اپوزیشن کے لیے لمحۂ فکریہ
ان پانچ ریاستوں کے نتائج نے مجموعی طور پر یہ واضح کر دیا ہے کہ بی جے پی نہ صرف اپنے روایتی علاقوں میں بلکہ نئے خطوں میں بھی اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے۔ اپوزیشن اتحاد، خصوصاً INDIA Bloc، کو سیٹ شیئرنگ، قیادت اور حکمت عملی کے مسائل کا سامنا رہا، جس کا اثر نتائج پر واضح طور پر نظر آیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اگر اپوزیشن بہتر تال میل اور مضبوط زمینی حکمت عملی اپناتی تو کئی ریاستوں میں نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔
کیا سیاست کا نیا دور شروع ہو چکا ہے؟
ان انتخابات کے نتائج نے ہندستان کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا ملک ایک مضبوط مرکزی پارٹی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے یا یہ محض ایک عارضی سیاسی لہر ہے۔ فی الحال نریندرا مودی کی قیادت میں بی جے پی نے اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے اور 2029 کے عام انتخابات کے لیے اپنی بنیاد کو مضبوط کیا ہے، جب کہ اپوزیشن کے لیے یہ نتائج ایک بڑے چیلنج اور خود احتسابی کا موقع بن کر سامنے آئے ہیں۔