ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار : کیروسین کی قیمت میں اضافے کے خلاف ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو ماہی گیروں کا احتجاج

کاروار : کیروسین کی قیمت میں اضافے کے خلاف ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو ماہی گیروں کا احتجاج

Wed, 22 Apr 2026 12:48:46    S O News
کاروار : کیروسین کی قیمت میں اضافے کے خلاف ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو ماہی گیروں کا احتجاج

کاروار، 22 / اپریل (ایس او نیوز) دیسی طرز کی ماہی گیر کشتیوں میں استعمال ہونے والے کیروسین کی قیمت میں بھاری اضافے کے خلاف ضلع ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو ماہی گیروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔
    
موصولہ رپورٹ کے مطابق احتجاجی مظاہرہ ایم ایل سی گنپتی الویکر کی قیادت میں ضلع ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا کو میمورنڈم پیش کیا جس میں سبسیڈی قیمت پر مٹی کا تیل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔
    
ماہی گیروں کے لیڈر دیورایا سئیل کا کہنا تھا کہ ایک زمانے میں صرف 35 روپے فی لیٹر ملنے والے کیروسین کی قیمت اب بڑھ کر 117 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے ۔ اس وقت ایک ماہی گیر کشتی کے لئے ہر مہینے دو سو لیٹر مٹی کا تیل سبسیڈی قیمت پر ملتا ہے، جبکہ صرف ایک بار سمندر میں جا کر آنے کے لئے دو سو لیٹر تیل خرچ ہو جاتا ہے ۔ حالت یہ ہوگئی ہے کہ مچھلی کے شکار سے ہونے والی آمدنی سے زیادہ خرچ ہو رہا ہے ۔ اس کے نتیجے میں ماہی گیری کا پیشہ ہی نقصان کا سودا بن گیا ہے ۔ 
    
موقع پر پہنچنے والے محکمہ ماہی گیری کے ڈپٹی ڈائریکٹر پرتیک شیٹی نے بتایا کہ مٹی کے تیل پر 18% جی ایس ٹی لاگو ہوتا ہے ۔ اگر کیروسین کو اشیائے ضروریہ میں شامل کیا جاتا ہے تو پھر ماہی گیروں کو بڑا فائدہ ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے مظاہرین کو تیقن دیا کہ اس ضمن میں حکومت کی توجہ مبذول کروانے کے لئے محکمہ ماہی گیری کے ڈائریکٹر کو مراسلہ بھیجا جائے گا ۔
    
خیال رہے کہ چار سال قبل مرکزی اور ریاستی حکومت کے اشتراک سے ماہی گیروں کے لئے رعایتی داموں پر مٹی کا تیل فروخت کیا جا رہا تھا ۔ سال  2023 میں جب منکال وئیدیا کو وزارت ماہی گیری کا قلمدان ملا تو انہوں نے انڈسٹریل کیروسین خرید کر ریاستی سبسیڈی کے ساتھ ماہی گیروں کو تیل فروخت کرنے کا نظام بنایا ۔ شروعات میں اس کی قیمت 64 روپے فی لیٹر رہی ۔ حالیہ دنوں میں وسط ایشیاء میں جنگی حالات کی وجہ سے پوری دنیا میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث انڈسٹریل کیروسین کی قیمت 152 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے ۔ اب اس میں ریاستی حکومت کی 35 روپے فی لیٹر سبسیڈی منہا کرنے کے بعد بھی یہ قیمت  117 روپے فی لیٹر بنتی ہے ۔ 
    
اس احتجاجی مظاہرے میں پرسنّا بی سئیل، وشنو سالگاونکر، الاس دیوو سالگاونکر، سنتوش تانڈیل، دنیش ایس پیڈنیکر، سومنات سالگاونکر سمیت سیکڑوں ماہی گیروں نے حصہ لیا  اور مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کے خلاف اپنی ناراضی کا اظہار کیا ۔


Share: