ڈھاکہ، 14 اپریل (ایس او نیوز/رائٹرز/ایجنسی): انڈمان سمندر میں روہنگیا مہاجرین کو لے جانے والی ایک کشتی کے الٹنے کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس سے ایک بڑے انسانی سانحے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ 14 اپریل کو پیش آیا، جس کی تصدیق اقوام متحدہ کے اداروں نے بھی کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ کشتی بنگلہ دیش کے جنوبی علاقے ٹیکناف (کاکس بازار کے قریب) سے روانہ ہوئی تھی اور اس کا رخ ملائیشیا کی جانب تھا۔ کشتی میں روہنگیا مہاجرین کے علاوہ کچھ بنگلہ دیشی شہری بھی سوار تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کشتی تیز ہواؤں، خراب سمندری حالات اور حد سے زیادہ گنجائش (اوورلوڈنگ) کے باعث ڈوب گئی۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق کشتی میں تقریباً 250 سے 280 افراد سوار تھے، جس کے پیش نظر ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیشی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کوسٹ گارڈ اور دیگر امدادی جہازوں نے ریسکیو آپریشن کے دوران کم از کم 9 افراد کو بچانے میں کامیابی حاصل کی، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، جبکہ بعض اطلاعات میں انسانی اسمگلروں کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ وہ کئی گھنٹوں تک سمندر میں تیرتے رہے، جبکہ کچھ افراد تیل گرنے کے باعث جھلس بھی گئے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک زندہ بچ جانے والے شخص نے بتایا کہ اسے انسانی اسمگلروں نے ملازمت کا جھانسہ دے کر کشتی میں سوار کیا تھا۔ اس کے مطابق کشتی میں حالات انتہائی خراب تھے اور کئی افراد سفر کے دوران ہی دم توڑ گئے، جبکہ کشتی الٹنے کے بعد وہ تقریباً 36 گھنٹے تک سمندر میں بھٹکتے رہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سانحہ روہنگیا مہاجرین کی مسلسل بے دخلی، بنگلہ دیش کے کیمپوں میں خراب حالات اور محفوظ مستقبل نہ ہونے کے باعث خطرناک سمندری سفر اختیار کرنے کا نتیجہ ہے۔
واضح رہے کہ میانمار کے صوبہ راکھائن میں جاری تشدد اور ظلم و ستم کے باعث لاکھوں روہنگیا مسلمان گزشتہ برسوں میں بنگلہ دیش ہجرت کر چکے ہیں، جہاں وہ انتہائی کسمپرسی کے عالم میں کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہی حالات کے سبب ہر سال ہزاروں روہنگیا خطرناک سمندری راستوں کے ذریعے ملائیشیا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے دوران اس نوعیت کے حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔
یہ تازہ سانحہ ایک بار پھر عالمی برادری کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، جس میں فوری انسانی امداد اور روہنگیا مسئلے کے مستقل حل کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔