نئی دہلی ، 6/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس کے اس سنسنی خیز الزام سے اتوار کو آسام کی سیاست میں ہلچل مچ گئی کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کی اہلیہ رِنیکی بھوئیان شرما کے پاس ۳؍ ملکوں کے پاسپورٹ ہیں، دبئی میں ان کے نام سے پراپرٹی ہے اور امریکہ میں ۵۳؍ ہزار کروڑ امریکی ڈالر (کم وبیش ۴۴؍ لاکھ کروڑ روپے) کی کمپنی ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان میں دہری شہریت کا نظم نہیں اس لئے اگر کوئی شخص کسی اور ملک کی شہریت اختیار کرتا ہے تو وہ ہندوستان کی شہریت سے محروم ہوجاتا ہے۔ ہیمنت بسوا شرما کی اہلیہ کے خلاف یہ سنسنی خیز الزامات کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے اتوار کو پارٹی ہیڈ کواٹرس میں خصوصی طور پرمنعقد کی گئی ایک پریس کانفرنس میں لگائے۔ حالانکہ انہوں نے پریس کانفرنس میں کچھ دستاویز بھی دکھائے تاہم ہیمنت بسوا شرما نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ہتک عزت کے مقدمہ کی دھمکی دی ہے۔
آسام میں ۹؍ اپریل کو اسمبلی انتخابات کیلئے مہم کے عروج پر پہنچنے کے دوران وزیر اعلیٰ شرما کو نشانہ بناتے ہوئے کانگریس کے میڈیا اور تشہیری شعبے کے سربراہ پون کھیرا نے پریس کانفرنس میں مبینہ طور پر دستاویزات پیش کیں تاکہ الزامات کی تائید کی جا سکے اور الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر انتخابی حلف نامے میں معلومات چھپانے پر ان کی نامزدگی منسوخ کی جائے۔ پون کھیرا نے کہا کہ ’’آسام کے وزیر اعلیٰ اور ان کی اہلیہ کو وقتاً فوقتاً متعدد الزامات کا سامنا رہا ہے، جیسے کہ زمین پر قبضہ، مندر کی عطیات میں خردبرد اور سرکاری سبسیڈی میں بدعنوانی لیکن آج ہم جو دستاویز آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ ملک کی سرحدوں کے باہر کے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے الزام لگایاکہ’’رِنیکی بھویان شرما جو آسام کے وزیر اعلیٰ کی اہلیہ ہیں، کے پاس تین پاسپورٹ ہیں۔‘‘ کھیڑا نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس متحدہ عرب امارات کا پاسپورٹ ہے جو۱۴؍ مارچ۲۰۲۲ء کو جاری ہوا اور۱۳؍ مارچ۲۰۲۷ء کو ختم ہوگا۔ دوسرا پاسپورٹ انٹیگوا باربوڈا کا ہے جو ۲۶؍ اگست۲۰۲۱ء کو جاری ہوا اور۲۵؍ اگست۲۰۳۱ء تک کارآمد ہے۔کھیڑا نے الزام لگایا کہ تیسرا پاسپورٹ مصر کا ہے جو۱۳؍ فروری۲۰۲۲ء کو جاری ہوا اور۱۲؍ فروری۲۰۲۹ءکو ختم ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ’’ہیمنت بسوا شرما کی پوری سیاست مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی ہے اوران کی اہلیہ کے پاس دو مسلم ممالک کے پاسپورٹ ہیں؟‘‘انہوں نے سوال کیا کہ ’’کیا یہ انتخابی شکست کی صورت میں ملک سے فرار کی تیاری ہے؟‘‘کانگریس ترجمان نے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ کی اہلیہ کی دبئی میں دو جائیدادیں ہیں۔‘‘
انہوں نے کہاکہ’’بہت سے لوگ بیرون ملک جائیداد رکھتے ہیں، تاہم جب کسی کا شریک حیات انتخاب لڑتا ہے تو ان اثاثوں کو حلف نامے میں ظاہر کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن ہیمنت بسوا شرما کے حلف نامے میں دبئی کی جائیدادوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔‘‘
کھیرا نے یہ بھی الزام لگایا کہ شرما کی اہلیہ امریکہ کی ریاست وائیومنگ میں قائم ایک کمپنی کی مالک ہیں، جس کے اراکین کی فہرست میں بسوا شرما اور ان کے بیٹے کے نام بھی شامل ہیں۔ کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ’’ہیمنت بسوا شرما نے شیل کمپنیوں کے ذریعے وائیومنگ میں اپنا پیسہ چھپا رکھا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ کو جواب دینا چاہیے کہ وہ ان معاملات کی تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دیں گے یا نہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمارکو بھی مخاطب کیا اور سوال کیا کہ ’’ حلف نامے میں معلومات چھپانے کا نوٹس کب لیں گے؟‘‘ کانگریس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ بسوا شرما خاندان کےپاس امریکہ کی ریاست وومنگ میں ایک ایل سی سی کمپنی ہے جس کی مالیت۵۴؍ہزار کروڑ امریکی ڈالر ہے۔
پون کھیڑا کے الزامات پروزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے ہتک عزت کے مقدمہ کی دھمکی دی ہے۔ کانگریس ترجمان کی تفصیلی پریس کانفرنس کےبعد آسام کے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ’’آج کی پریس کانفرنس کانگریس پارٹی کی گہری مایوسی اور گھبراہٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ ‘‘بسوا شرما نے کہا کہ ’’میں ہر الزام کو واضح طور پر مسترد کرتا ہوں۔ یہ بدنیتی پر مبنی، من گھڑت اور سیاسی مقاصد کے تحت گھڑاگیا جھوٹ ہے جس کا مقصد آسام کے عوام کو گمراہ کرنا ہے۔ ‘‘ انہوں نے ایکس پوسٹ میں کہا ہےکہ’’ میں اور میری اہلیہ اگلے۴۸؍ گھنٹوں کے اندر پون کھیرا کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات دائر کریں گے۔ انہیں اپنے غیر ذمہ دارانہ اور ہتک آمیز بیانات کے لیے مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ مجھے عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے۔ جب سچائی ثابت ہو جائے گی تو پون کھیرا کو نتائج بھگتنے ہوں گے اور قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ ‘‘