بنگلورو، 2 مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاست کرناٹک میں بیرونی ریاستوں میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی آمد اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔
حکومت نے ’’کرناٹک موٹر وہیکل ٹیکس (ترمیمی) آرڈیننس‘‘ نافذ کرتے ہوئے اب ایسی گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو دیگر ریاستوں میں رجسٹرڈ ہونے کے باوجود کرناٹک میں مستقل طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔
حکام کے مطابق دہلی سمیت ملک کی مختلف ریاستوں سے بڑی تعداد میں گاڑیاں بنگلورو اور دیگر شہروں میں زیر استعمال ہیں، جس کے باعث فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے اور ریاستی خزانے کی آمدنی بڑھانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
نئے ضابطے کے تحت کار، جیپ، منی بس اور دو پہیہ گاڑیاں جو بیرونی ریاستوں میں رجسٹرڈ ہیں لیکن کرناٹک میں مسلسل چلائی جا رہی ہیں، ان پر ٹیکس ادا کرنا لازمی ہوگا۔
حکومت کی جانب سے مجوزہ ٹیکس شرح درج ذیل ہے: 10 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک کی گاڑیوں پر 15 فیصد ٹیکس، 15 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی گاڑیوں پر 18 فیصد ٹیکس، 25 لاکھ روپے سے زائد قیمت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 10 فیصد ٹیکس، جبکہ پرانی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح ان کی عمر اور حالت کے مطابق مختلف ہوگی۔
اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے پہلے دی گئی ٹیکس چھوٹ میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک ہزاروں بیرونی ریاستوں کی گاڑیاں کرناٹک میں استعمال ہو رہی تھیں لیکن ان سے ریاست کو کوئی محصول حاصل نہیں ہو رہا تھا۔ مزید یہ کہ کئی افراد ٹیکس سے بچنے کے لیے پڑوسی ریاستوں میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کرواتے تھے۔
حکومت کا ماننا ہے کہ اس نئے اقدام سے نہ صرف ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ غیر ضروری گاڑیوں کے استعمال پر بھی کنٹرول پایا جا سکے گا، جس سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔