نئی دہلی ، 11/اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)اترپردیش کے مئو کے ایم ایل اے عباس انصاری کو راحت دیتے ہوئے، سپریم کورٹ نے جمعہ کو الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا جس میں۲۰۲۲ء کے نفرت انگیز تقریر معاملے میں ان کی سزا پر روک لگائی گئی تھی، جس کے بعد وہ مؤثر طور پر اتر پردیش قانون ساز اسمبلی کے رکن کے طور پر برقرار رہ سکیں گے۔چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوی ملہ باغچی اور جسٹس وپل پنچولی کی بنچ نے اترپردیش حکومت کی اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔اس سے قبل ہائی کورٹ نے مرحوم گینگسٹر سے سیاستدان بننے والے مختار انصاری کے بیٹے عباس انصاری کو راحت دی تھی۔الہ آباد ہائی کورٹ نے۲۰؍ اگست ۲۰۲۵ءکے اپنے حکم میں، سیشن کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس میں عباس انصاری کی سزا پر روک لگانے سے انکار کیا گیا تھا، اور کہا تھا کہ یہ معاملہنایاب اور غیر معمولی حالات میں اپیل کورٹ کے اختیارات استعمال کرنے کا متقاضی ہے۔
جسٹس سمیر جین کی یک رکنیبنچ نے مشاہدہ کیا تھا کہ مرتّب (ریویژنسٹ) کی سزا سے اس کے حلقے کو جائز نمائندگی سے محرومی ہوئی ہے، اس کی سزا پر روک لگانے سے انکار نہ صرف مرتّب کے ساتھ بلکہ ووٹروں کے ساتھ بھی ناانصافی کے مترادف ہے۔‘‘حکم میں مزید کہا گیا کہ ابتدائی طور پر، ریکارڈ پر موجود مواد کی روشنی میں آئی پی سی کی دفعہ۱۵۳؍ اے اور۱۷۱؍ ایف کے تحت جرائم کے عناصر ثابت نہیں ہوتے۔اس میں مزید کہا گیا کہ محض انتظامیہ پر تنقید پر مبنی تقریر کرنا گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے یا انتخابات میں ناجائز اثر و رسوخ استعمال کرنے کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ مارچ۲۰۲۲؍ میں مئو میں ایک انتخابی تقریر سے شروع ہوا، جس میں الزام تھا کہ عباس انصاری نے حکومتی افسران کو نشانہ بناتے ہوئے اشتعال انگیز تبصرے کئے تھے۔ایک مقامی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے۳۱؍ مئی۲۰۲۵ء کو انہیں دو سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے تحت نمائندگانِ عوام ایکٹ کی دفعہ ۸؍ کے تحت ان کی اہلیت ختم ہو گئی تھی۔ان کی سزا کے بعد، اترپردیش اسمبلی سیکریٹریٹ نے ان کی رکنیت ختم کر دی تھی اور ضمنی انتخاب کے لیے اقدامات شروع کیے تھے۔ تاہم، الہ آباد ہائی کورٹ نے جب ان کی سزا پر روک لگا دی، تو سیکریٹریٹ نے ستمبر ۲۰۲۵ءمیں عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ان کی رکنیت بحال کر دی۔عباس انصاری نے۲۰۲۲ء کے اسمبلی انتخابات میں مئو سیٹ جیتی تھی۔
دراصل انتخابی مہم کے دوران ان کا مبینہ تبصرہجس میں انہوں نے افسران کو خبردار کیا تھا کہ اگر سماج وادی پارٹی اقتدار میں آئی تو ’’احتساب‘‘ ہوگا، کے بعد یہ مجرمانہ کارروائی شروع ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا، ’’میں نے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سے کہہ دیا ہے کہ حکومت بننے کے بعد چھ ماہ تک کوئی تبادلہ یا پوسٹنگ نہیں ہوگی۔ سب اپنی جگہ پر رہیں گے۔ پہلےحساب کتاب ہوگا، تبھی تبادلے ہوں گے۔‘‘اس بیان کو دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز قرار دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اس وقت ان کی انتخابی مہم پر پابندی لگا دی تھی۔ ان کی تقریر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔ بعدازاں ،۲۰۲۲ء میں کوتوالی نگر پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جبکہ مقدمے کی سماعت کے دوران چھ گواہوں نے عدالت میں گواہی دی۔