کولکاتہ ، 14/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) ایس آئی آر میں نام نہ آنے کی وجہ سے پہلے ہی ذہنیت اذیت کا شکار لاکھوں افراد کو ایک اور بڑا جھٹکا دیتے ہوئے مغربی بنگال اور بہار حکومتوں نے انہیں سرکاری اسکیموں سے محروم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ بنگال اور بہار کی حکومتوں نے کہا ہے کہ ایسے افراد ریاستی سرکاری اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ البتہ مغربی بنگال کی نئی منتخب حکومت نے اتنی راحت دی ہے کہ جن لوگوں کے معاملات ٹریبونلز میں زیرِ سماعت ہیں، انہیں فیصلہ آنے تک سابقہ سہولیات ملتی رہیں گی۔ یہ خبر انڈین ایکسپریس نے دی ہے۔
مغربی بنگال میں پیر کو بی جے پی حکومت کی پہلی کابینہ میٹنگ میں اعلان کیا گیا کہ سابق حکومت کی تمام سماجی اسکیموں کو جاری رکھنے کا اعلان کیاگیا اور بتایاگیا کہ وہ مرکزی اسکیمیں بھی اب شہریوں کو دستیاب ہوں گی جنہیں ٹی ایم سی نے روک رکھا تھا۔ وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے کہاکہ’’ تمام سماجی اسکیمیں، چاہے وہ۳۰؍ سال پہلے شروع ہوئی ہوں یا۱۰؍ سال پہلے، سب جاری رہیں گی۔ تاہم اب یہ تمام اسکیمیں شفاف طریقے سے نافذ کی جائیں گی۔ مردہ شخص کے نام پر، غیر قانونی درانداز یا ایسے افراد جو ہندوستانی شہری نہیں ہیں، انہیں بنگال کے شہریوں کیلئے مختص فوائد حاصل نہیںکرنے دیا جائےگا۔‘‘
پٹنہ میں دی انڈین ایکسپریس سے گفتگو میں بہار کے وزیراعلیٰ سمرت چودھری نے کہاکہ ’’جن لوگوں کے نام بہار کی ووٹر لسٹ سے حذف کر دیئے گئے ہیں، وہ راشن اور دیگر فلاحی اسکیموں سمیت کسی بھی سرکاری فائدہ کے حقدار نہیں ہوں گے۔‘‘ چودھری کے مطابق’’ ایسے افراد کی بینک پاس بُکس بھی مناسب وقت پر منسوخ کر دی جائے گی۔‘‘ اس سوال پر کہ کیا اس ضمن میں کوئی سرکاری حکم جاری کیاگیاہے، بہار کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کے آئندہ اقدامات پرکسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ بہار کے وزیر خوراکاشوک چودھری نے بتایاکہ ’’ریاست میں ایس آئی آر کے بعد راشن کارڈ ہولڈرس میں سے تقریباً ۵؍لاکھ افراد کے نام حذف کئے جا چکے ہیں۔‘‘
بنگال کے وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے ان لوگوں کی وضاحت کرتےہوئے جو سرکاری اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، ’’غیر بھارتی‘‘کا لفظ استعمال کیا۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے مغربی بنگال کے وزیر خوراک و رسد اشوک کرتانیا نے کہا کہ ’’یہ واضح ہے کہ جن ناموں پر ٹریبونلز غور کر رہے ہیں، وہ سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ جو لوگ سی اے اے (شہریت ترمیمی قانون) کے تحت شہریت کیلئے درخواست دے چکے ہیں، وہ بھی تمام سرکاری اسکیموں سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں… لیکن جن کے نام ایس آئی آر کے ذریعے حذف کئے گئے ہیں، وہ سرکاری اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔‘‘
وزیر نے بتایاکہ انہوں نے پہلے ہی اپنے محکمے کے افسران کے ساتھ’’راشن کارڈوں کی جانچ مہم‘‘ کیلئے میٹنگ کی ہے تاکہ ایس آئی آر کے تحت حذف کئے گئے افراد کو الگ کیا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ’’بہت سے راشن کارڈ ایسے لوگوں کے نام پر ہیں جو فوت ہو چکے ہیں یا جو ہندوستانی نہیں ہیں۔‘‘
ایس آئی آر میں جن کے نام کٹے ہیںانہیں ’’غیر قانونی درانداز‘‘قرار دیتے ہوئے، متوا برادری کے لیڈرکرتانیا نے زور دیا کہ جو لوگ سی اے اے کے تحت اہل ہیں، انہیں شہریت کیلئے درخواست دینے کو کہا جا رہا ہے۔ (مغربی بنگال میں سی اے اے کے بیشتر درخواست دہندگان متوا برادری سے تعلق رکھتے ہیں، جو بنگلہ دیش سے ہندوستان آئے تھے۔)