واشنگٹن/تہران، 7 اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جہاں سخت فوجی دھمکیاں، جاری فضائی حملے اور ممکنہ وسیع علاقائی جنگ کے خدشات کے درمیان عالمی برادری نے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی ہے۔
ٹرمپ کا الٹی میٹم اور نظامِ حکومت کی تبدیلی کا اشارہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی تاریخ کا ایک نہایت اہم موڑ قریب ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی مطالبات کو تسلیم نہ کیا تو صورتحال انتہائی سنگین ہو سکتی ہے، یہاں تک کہ ایک “تہذیب کے خاتمے” جیسے نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ ایران میں نظامِ حکومت کی تبدیلی ممکنہ نتیجہ ہو سکتی ہے، جس سے ان کے مطابق زیادہ عملی اور کم شدت پسند قیادت سامنے آ سکتی ہے اور دہائیوں پر محیط بدعنوانی، جبر اور تشدد کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پرامن حل اب بھی ممکن ہے۔
شدید فوجی کارروائی کی دھمکی
کشیدگی کو مزید بڑھاتے ہوئے ٹرمپ نے دھمکی دی کہ امریکہ چند گھنٹوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر سکتا ہے، جس میں بجلی گھر اور اہم پل شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مقررہ وقت تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا تو پورا ملک شدید فوجی کارروائی کا سامنا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے ان بیانات کو “گھمنڈ اور تکبر پر مبنی بیان بازی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ایسی دھمکیوں سے اس کے فیصلوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
فضائی حملے اور میزائل حملوں میں اضافہ
زمینی صورتحال بھی تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایران کے خلاف ایک نئی لہر کے تحت فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ ایرانی میزائلوں کے جواب میں اپنے فضائی دفاعی نظام کو بھی فعال کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران اور قریبی شہر کرج میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے اور خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
امریکہ کے پاس مزید آپشنز موجود: جے ڈی وینس
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے کئی فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں، تاہم اس کے پاس اب بھی ایسے کئی آپشنز موجود ہیں جنہیں ابھی استعمال نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اب بھی مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے، لیکن اگر ایران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ وینس نے امید ظاہر کی کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے سفارتی کوششیں کشیدگی کو کم کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔
خلیجی خطے تک کشیدگی کا پھیلاؤ
ایک تشویشناک پیش رفت میں یہ تنازع خلیجی خطے تک بھی پہنچ گیا ہے۔ شارجہ میں حکام نے تصدیق کی کہ ایران سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل ایک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کی عمارت سے ٹکرا گیا۔
اس واقعے میں دو پاکستانی شہری زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع پر بھروسہ کریں۔
عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ
تیزی سے بدلتی صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں ایک مکمل جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے عالمی معیشت اور خاص طور پر توانائی کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
عالمی برادری کی نظریں اب آئندہ چند گھنٹوں پر مرکوز ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ سفارتی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں یا یہ بحران ایک بڑی اور تباہ کن جنگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔