بھٹکل 6 / اپریل (ایس او نیوز) پچھلے کچھ مہینوں سے بھٹکل اور اطراف میں مویشی چرانے کا کاروبار پھر سے تیز ہوگیا ہے ۔ اس کی تازہ مثال دو دن قبل شہر کے مضافات جالی تلگیری میں پیش آیا ہوا واقعہ ہے جہاں مویشی سمیت اپنی کار چھوڑ کر فرار ہونے والے چوروں کو مقامی عوام نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کارروائی کے دوران مبینہ چوروں نے پولیس ٹیم پر بھی حملہ کر دیا اور موقع پر سے فرار ہوگئے ۔
بتایا جاتا ہے کہ کسی دوسری جگہ سے ایک گائے اور ایک بچھڑے کو بڑے ظالمانہ انداز میں سوِفٹ کار کے اندر ٹھونس کر لانے والے مویشی چور جالی تلگیری میں مزید جانور چرانے کی کوشش کی ۔ چوروں کی ہلچل کا پتہ چلنے پر مقامی افراد اس مقام پر پہنچ گئے اور کار میں موجود تین افراد کے علاوہ اسکوٹی پر سوار دو لوگوں کو پکڑنے کے ساتھ پولیس کو اطلاع دی ۔ جب موقع پر پہنچنے والی پولیس ٹیم نے چوروں کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر چوروں نے پولیس ٹیم پر حملہ کیا اور کار اور اسکوٹر چھوڑ کر موقع پر سے فرار ہوگئے ۔ اس واقعے میں پولیس اہلکار گریش کو چوٹ لگی ہے ۔ بھٹکل ٹاون پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے اور سی پی آئی دیواکر کی رہنمائی میں ایس آئی نوین کے ذریعے تفتیش جاری ہے ۔
کار بنٹوال کی ، نمبر پلیٹ سداپور کی : مویشی چوروں نے جرم کے ارتکاب کے لئے جس کار کا استعمال کیا تھا پولیس نے اسے ضبط کیا ہے ۔ تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ یہ کار دکشن کنڑا ضلع میں بنٹوال تعلقہ کے ایک شخص کی ملکیت ہے جو اس نے چار مہینے قبل ہی خریدی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کار کو تین مہینے قبل کرایے پر لیا گیا تھا ۔ اس کار کے مالک کو پوچھ تاچھ کے لئے بھٹکل ٹاون پولیس میں طلب کیا گیا ہے ۔
جب کہ اس پر جو نمبر پلیٹ ہے وہ اتر کنڑا ضلع کے سداپور سے تعلق رکھنے والے پرکاش نامی ایک ٹھیکیدار کی کار کی نمبر پلیٹ ہے جسے مویشی چوروں سے کچھ عرصے قبل چرایا تھا اور اس کے بارے میں متعلقہ ٹھیکیدار پرکاش نے اُسی وقت پولیس کے پاس شکایت درج کروائی تھی ۔
پورے ساحلی علاقے کے ساتھ ساتھ ملناڈ کے علاقے میں بھی مویشی چوری کا کاروبار تیز ہوتا جا رہا ہے ۔ روزانہ کسی نہ کسی مقام پر مویشی چوری ہونے یا پھر چیکنگ کے موقع پر مال سمیت موٹر گاڑیاں پکڑے جانے کی خبریں سامنے آتی ہیں ۔ رات کے وقت سڑکوں کے کنارے، میدانوں میں، اسکولوں یا مندروں کے احاطوں وغیرہ میں پائے جانے والے مویشی چرانے کے علاوہ زرعی مقاصد کے لئے پالے ہوئے جانوروں کو گھروں کے قریب باڑوں سے چرانا اور پھر انہیں قصائی خانوں تک پہنچانے کا گھناونا عمل مسلسل جاری ہے اور اس پر روک لگانے کا کام محکمہ پولیس کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج بن کر رہ گیا ہے ۔