بھٹکل 6 / اپریل (ایس او نیوز) ایک طرف گرمیوں کی چٹھیوں کی وجہ سے اتر کنڑا کے مشہور سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا ہجوم امڈ رہا ہے تو دوسری طرف رسوئی گیس کی فراہمی میں درپیش دقت اور قلت کی وجہ سے ہوٹل کاروبار بری طرح متاثر ہو گیا ہے جس کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں یا تو مہنگی ہوگئی ہیں یا پھر ان کی دستیابی مشکل ہوگئی ہے ۔ اس وجہ سے سیر و تفریح کے لئے یہاں آنے والوں کو آرام اور راحت کے بجائے ذہنی اذیت اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
ضلع کے اکثر سیاحتی مراکز اور اہم شہروں میں گیس نہ ملنے کی وجہ سے ہوٹلوں میں کام دھندا رک سا گیا ہے ۔ کھانے پینے کے کئی ہوٹل بند کر دئے گئے ہیں ۔ جو ہوٹل کھلے ہیں وہاں پر کھانے پینے کی چیزوں کی اقسام اور مقدار محدود کر دی گئی ہے ۔ سیاحوں کے لئے اتر کنڑا کے لذید کھانوں سے لطف اٹھانے کے لئے اپنی پسند سے کھانا کھانے کا موقع نہیں مل رہا ہے بلکہ ہوٹل میں جو دستیاب ہے اسی سے کام چلانا پڑ رہا ہے ۔
گیس کی قلت اور فراہمی میں دقت کی اس صورتحال کے منفی اثرات بالواسطہ طورپر سیاحتی سرگرمیوں پر پڑنے کے آثار نظر آ رہے ہیں ۔ کیونکہ سیاحت اور تفریح کے مقصد سے ضلع کا رخ کرنے والوں کو جب ان کی توقع کے مطابق راحت اور سکون کے لمحے گزارنے اور لطف اٹھانے کا موقع نہیں ملے گا تو پھر یقینی طور پر سیاحوں کی آمد متاثر ہوگی جس کا منفی اثر تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ملازمتوں اور روزگار کے دیگر ذرائع پر بھی پڑے گا ۔
حالانکہ کچھ ہوٹلوں میں گیس کی جگہ اب لکڑی کے چولہوں سے کام چلایا جا رہا ہے مگر اس طرح کے متبادل انتظام سے بڑے پیمانے پر کھانا پکانا اور ہوٹلوں کا کاروبار چلانا آسان نہیں ہے ۔ ہوٹلوں کا کاروبار متاثر ہونے کی وجہ سے یہاں خدمات انجام دینے والے باورچیوں اور بیروں کی نوکریاں بھی ختم ہوگئی ہیں ۔ ان ملازموں میں سے اکثر بیرونی ریاستوں سے آئے ہوئے لوگ ہیں جو اب کام دھندا نہ ہونے کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں کی طرف واپس لوٹنے لگے ہیں ۔ ایک ہوٹل مالک نے بتایا کہ رسوئی گیس نہ ملنے کی وجہ سے جب کاروبار ہی ٹھپ ہو گیا ہے تو پھر ملازموں کی تنخواہیں کہاں سے ادا کی جائیں ۔ اس لئے انہیں اپنے گھر واپس جانے کے لئے کہنا پڑا ہے ۔