ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / منی پور میں تشدد کے خلاف شدید مظاہرے، مشتعل مظاہرین کی وزیراعلیٰ تک پہنچنے کی کوشش

منی پور میں تشدد کے خلاف شدید مظاہرے، مشتعل مظاہرین کی وزیراعلیٰ تک پہنچنے کی کوشش

Thu, 22 Oct 2026 17:33:49    S O News
منی پور میں تشدد کے خلاف شدید مظاہرے، مشتعل مظاہرین کی وزیراعلیٰ تک پہنچنے کی کوشش

امپھال  ، 22 /اکتوبر (ایس او نیوز / ایجنسی)منی پور میں حالیہ حملوں میں میتی سماج کے ۳؍ افراد کےقتل کے خلاف بدھ کو بڑی تعداد میں مظاہروں کے دوران خاتون مظاہرین نے امپھال  کے اُس اسپورٹس کمپلیکس  میں گھسنے کی کوشش کی جس میں وزیراعلیٰ ایک تقریب میں شرکت کیلئے موجود تھے۔ مظاہرین نے  برہمی ظاہر کی کہ جب بے قصور افراد کو قتل کیا جارہا ہے تو وزیراعلیٰ  اور وزیر داخلہ امن و امان کی صورت حال کو نظرانداز کرکے کھیل کی تقریب میں اس طرح شرکت نہیں کرسکتے۔ اسپورٹس کامپلکس میں گھس کر وزیراعلیٰ کو گھیرنے کی اس کوشش  کے دوران مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔

۱۹؍اکتوبر کو کانگ پوکپی ضلع کی سنوروک پہاڑیوں میں لکڑیاں چننے کے دوران مسلح حملہ آوروں نے۱۴؍میتی افراد پر گھات لگا کر حملہ کیا  جس میں ۳؍کی موت ہوگئی۔ اسی کے خلاف  احتجاج کے دوران خاتون مظاہرین نے وزیر اعلیٰ  سے سوال پوچھنے کیلئے کھومان لامپک اسپورٹس کمپلیکس میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے آنسو گیس کے کئی گولے داغے، جس میں تین افراد زخمی ہوگئے۔

قتل کے واقعات کے خلاف نیٹیو پیپل کمیٹی منی پور  نےمنگل کی نصف شب سے۴۸؍گھنٹے کی بند کی اپیل کی  ہے۔اس کے نتیجے  میں  امپھال کے پانچوں اضلاع میں بدھ کو معمولات زندگی متاثر رہے۔ بازار بند  اور سڑکیں سنسان رہیں۔ منی پور مئی۲۰۲۳ءسے نسلی تشدد کا شکار ہے۔  یہ تنازعہ وادی میں رہنے والی میتی برادری اور پہاڑی علاقوں میں آباد کوکی برادری کے درمیان  ہے۔ اس دوران کم از کم۳۰۶؍افراد ہلاک  اور کئی  لاپتہ  ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ، رواں سال فروری سے ریاست میں کوکی اور ناگا برادریوں کے درمیان جھڑپوں میں بھی تقریباً۵۰؍افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

منی پور میں امن کی بحالی میں ناکامی پر  بی جےپی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نےکہا ہے کہ ’’بی جے پی کی نااہلی کی وجہ سے منی پور ایک بار پھر خون میں ڈوبا ہوا ہے! تشدد کی تازہ لہر میں چار بے قصور شہریوں کا بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت ہے۔‘‘ یہ سوال کرتے ہوئے اور کتنے بے قصوروں کی قربانی درکار ہوگی؟کانگریس صدر نے کہا کہ مئی۲۳ء سے اب تک۳۰۰؍سے زیادہ افرادجانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ۲۴؍ہزار ۵۳۰؍ افراد اب بھی امدادی کیمپوں میں ہیں۔ طویل عرصے سے جاری اس بحران کا سب سے زیادہ خمیازہ خواتین، بچوں اور کمزور خاندانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔‘‘

کوکی زو خواتین فورم نے بدھ کو منی پور میں صدر راج دوبارہ نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے  امیت شاہ کی  قیادت میں وزارت داخلہ کے اقدامات پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ ریاست کا بحران سیاسی مسئلہ ہے، جسے محض مزید سیکوریٹی فورسیز کی تعیناتی سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ کوکی زو کونسل کے ترجمان گنزا ووالز ونگ  نےپریس کانفرنس میں کہاکہ ’’ہمارا سیاسی مطالبہ محض سیاسی نہیں بلکہ ہماری بقا کا سوال ہے۔ ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہاکہ ’’حکومت ہند سیکوریٹی کا مسئلہ سمجھ کر ریاست میں بڑی تعداد میں سیکوریٹی فورسیز تعینات کر کے اسے حل کرنے کی کوشش کررہی ہےمگر  ۳؍ سال سے کچھ بھی کام نہیں آرہا ۔‘‘ انہوں نے مرکز سے سیاسی مذاکرات کا عمل تیز کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ صدر راج کے دوران کوکی زو شہری خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منی پور میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے اس برادری کے ۳۲؍افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔


Share: