بنگلورو ، 5/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے شِرِنگیری اسمبلی حلقہ کے انتخابی نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی پر ’’منظم ووٹ چوری‘‘ کے الزامات عائد کیے ہیں اور اس پورے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اپنی سرکاری رہائش گاہ "کرشنا" میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 2023 کے انتخابات میں کانگریس کے امیدوار راجے گوڑا محض 201 ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوئے تھے۔ اس وقت تمام ووٹوں کو جائز قرار دیتے ہوئے انتخابی افسران اور ایجنٹوں نے دستخط کے ساتھ نتائج کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں بی جے پی امیدوار جِیوراج نے ہائی کورٹ میں دوبارہ گنتی کی درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے 6 مارچ 2026 کو ری کاؤنٹنگ کا حکم دیا۔ دوبارہ گنتی کے دوران کئی ووٹوں کو اچانک غیر معتبر قرار دیا گیا، جس سے نتائج میں غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق، راجے گوڑا کے تقریباً 250 ووٹوں کو منظم طریقے سے مسترد کیا گیا جبکہ بی جے پی امیدوار کے ووٹوں میں اضافہ دکھایا گیا، جو ایک ’’سنگین مجرمانہ سازش‘‘ کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹل بیلٹس، جنہیں پہلے جائز قرار دیا گیا تھا، انہیں بھی بعد میں غیر معتبر ٹھہرایا گیا، جو شکوک و شبہات کو مزید بڑھاتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اُس وقت ریاست اور مرکز دونوں میں بی جے پی کی حکومت تھی، اور ممکن ہے کہ سرکاری عملے کے ذریعے ووٹوں میں چھیڑ چھاڑ کی گئی ہو۔ انہوں نے اس معاملے میں فارنسک جانچ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نتائج کے اعلان میں بھی ضابطوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ انتخابی مبصر نے بھی اس معاملے میں انتخابی کمیشن کو خط لکھا ہے، جس میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
اس موقع پر انہوں نے سابقہ ’’چلومے‘‘ معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی پہلے بھی ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کی کوشش کر چکی ہے اور جمہوری اقدار پر اس کا یقین کمزور ہے۔
وزیر اعلیٰ نے باگل کوٹ اور داونگیرے اسمبلی حلقوں کے حالیہ ضمنی انتخابات میں کانگریس امیدواروں کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج عوامی اعتماد اور ریاستی حکومت کی ’’گارنٹی اسکیموں‘‘ کی کامیابی کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل ضمنی انتخابات میں کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ عوام کانگریس کی پالیسیوں سے مطمئن ہیں اور 2028 کے اسمبلی انتخابات میں بھی پارٹی کو کامیابی حاصل ہوگی۔