دبئی، 4 مئی (ایس او نیوز/ایجنسیاں): متحدہ عرب امارات کی اہم بندرگاہی ریاست فجیرہ میں واقع آئل انڈسٹری زون پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس نے خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملہ ایران کی جانب سے کیا گیا، تاہم تہران نے براہ راست ذمہ داری قبول نہیں کی۔
رپورٹس کے مطابق فجیرہ آئل انڈسٹری زون، جو عالمی سطح پر تیل ذخیرہ اور ترسیل کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، اس حملے میں جزوی طور پر متاثر ہوا۔ واقعے کے فوراً بعد سول ڈیفنس کی ٹیمیں حرکت میں آئیں اور آگ پر قابو پا لیا گیا۔
زخمیوں میں تین انڈین شہری زخمی
حملے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہندوستانی شہری زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ اس واقعے نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ فجیرہ عالمی توانائی سپلائی چین میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
میزائل اور ڈرون حملوں کی وسیع لہر
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے ڈرونز کے ساتھ ساتھ بیلسٹک اور کروز میزائل بھی داغے، جن میں سے کئی کو متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔ بعض ڈرونز اور میزائلوں نے فجیرہ اور دیگر علاقوں میں آگ بھڑکا دی، جبکہ کچھ جہازوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
معروف میڈیا الجزیرہ کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ فجیرہ کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہو، بلکہ مارچ 2026 سے جاری ایران-امریکہ/اسرائیل کشیدگی کے دوران اس خطے میں بار بار ڈرون حملے ہو چکے ہیں، جن سے تیل کی تنصیبات، بندرگاہیں اور شہری ڈھانچے متاثر ہوئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران نے ان حملوں کو امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ردعمل کے طور پر پیش کیا، جبکہ خلیجی ممالک نے انہیں علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
علاقائی ردعمل
بعض رپورٹس میں ایران نے دعویٰ کیا کہ متحدہ عرب امارات براہ راست ہدف نہیں تھا بلکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے باعث یہ حملے کیے گئے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ان حملوں کو "خطرناک اشتعال انگیزی" قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی اور جواب دینے کا حق محفوظ رکھا ہے۔
عالمی توانائی پر اثرات
ماہرین کے مطابق فجیرہ بندرگاہ نہ صرف خلیج بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر تیل کی برآمد کا بڑا ذریعہ ہے۔ اس تنصیب کو نشانہ بنانا عالمی تیل سپلائی اور قیمتوں پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی نازک مرحلے میں ہے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ امریکہ نے تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔