ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل سمیت ساحلی اضلاع میں شدید گرمی کے بعد ہلکی بارش؛ آئندہ چار دن گرم و مرطوب موسم برقرار رہنے کا امکان

بھٹکل سمیت ساحلی اضلاع میں شدید گرمی کے بعد ہلکی بارش؛ آئندہ چار دن گرم و مرطوب موسم برقرار رہنے کا امکان

Sun, 26 Apr 2026 12:06:46    S O News
بھٹکل سمیت ساحلی اضلاع میں شدید گرمی کے بعد ہلکی بارش؛ آئندہ چار دن گرم و مرطوب موسم برقرار رہنے کا امکان

بھٹکل، 26 اپریل (ایس او نیوز): بھٹکل سمیت ساحلی کرناٹکا کے مختلف علاقوں میں گزشتہ چار تا پانچ دنوں سے جاری شدید گرمی کے بعد سنیچر کی رات ہلکی بارش نے وقتی طور پر عوام کو راحت فراہم کی، تاہم بارش رکنے کے ساتھ ہی گرمی کی شدت ایک بار پھر بڑھ گئی ہے اور اتوار دوپہر کو درجہ حرارت دوبارہ 34 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ساحلی کرناٹکا میں آئندہ چار دنوں کے دوران موسم ملے جلے حالات کا شکار رہے گا، جہاں ایک طرف گرمی اور رطوبت میں اضافہ برقرار رہے گا وہیں بعض مقامات پر ہلکی تا معتدل بارش اور گرج چمک کے امکانات بھی موجود ہیں۔bhatkal-temp

پڑوسی اضلاع اُڈپی اور دکشن کنڑا میں 26 تا 29 اپریل کے دوران شدید گرمی اور زیادہ نمی (ہیومیڈیٹی) کے پیش نظر یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اس دوران بعض علاقوں میں تیز ہواؤں، آسمانی بجلی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارش کے امکانات کے باوجود دوپہر کے اوقات میں گرمی کی شدت برقرار رہے گی اور بعض مقامات پر لُو جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ ماہی گیروں اور ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کو خراب موسمی حالات کے دوران خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ 24 اپریل کی رات کو بھی بعض علاقوں میں معتدل بارش ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ جمعہ اور سنیچر کے دنوں میں آسمان زیادہ تر ابر آلود رہا اور دھوپ و بادلوں کا سلسلہ جاری رہا۔

بھٹکل کی طرح اُڈپی اور دکشن کنڑا میں بھی سنیچر کو رطوبت کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ منگلورو شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34.7 ڈگری جبکہ کم سے کم 25.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔

شدید گرمی اور بڑھتی ہوئی نمی نے معمولات زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔ خصوصاً سڑک کنارے کاروبار کرنے والوں، پھیری والوں، تعمیراتی مزدوروں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کو سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق شدید گرمی کے باعث بچوں اور معمر افراد میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن)، چکر آنا اور بے چینی جیسے مسائل میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ کئی افراد نے رات کے وقت گرمی کے سبب نیند متاثر ہونے کی شکایت بھی کی ہے۔

دوسری جانب بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث بجلی کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ایئر کنڈیشنر اور پنکھوں کا استعمال مسلسل جاری ہے۔ بعض علاقوں میں پانی کی قلت کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جبکہ شدید دھوپ نے زرعی سرگرمیوں اور فصلوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ آئندہ دنوں میں وقفے وقفے سے پری مانسون بارش سے وقتی راحت مل سکتی ہے، تاہم باقاعدہ مانسون کے آغاز تک گرمی اور نمی کی موجودہ صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔


Share: