نئی دہلی، 21/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) دہلی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کا کام جاری ہے۔ 31 اگست کو جاری کی گئی مسودہ ووٹر لسٹ میں جن اہل شہریوں کے نام شامل نہیں ہو سکے ہیں، وہ حتمی فہرست میں اپنا نام شامل کرانے کے لیے ’دعوے اور اعتراضات‘ درج کرنے کی موجودہ مدت کے دوران ’فارم 6‘ بھر سکتے ہیں۔ سامنے آئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے موصول ہونے والی تقریباً 4.5 لاکھ درخواستوں میں سے 42 دنوں کے دوران صرف 1,238 درخواستوں ہی کا نمٹارا ہو سکا ہے۔
انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتہ دہلی کے چیف الیکشن افسر (سی ای او) نے الیکٹورل رجسٹریشن افسران کو نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان کے تحت بوتھ سطح کے افسران (بی ایل او) کو گھر گھر جاکر ان 47.5 لاکھ ناموں کی دوبارہ تصدیق کرنی ہوگی، جنھیں ’غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ اور دوہرے اندراج‘ کے زمروں کے تحت مسودہ فہرست سے ہٹا دیا گیا تھا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ فہرست میں نام شامل کرانے کے لیے فارم بھرنے کی اب صرف 10 دن کی مہلت باقی رہ گئی ہے۔ یہ مدت 30 اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے۔
فکر انگیز بات یہ ہے کہ اب تک موصول ہونے والی ’فارم 6‘ کی درخواستوں میں سے ایک فیصد پر بھی کارروائی نہیں ہوئی ہے، جس کی وجہ سے نام شامل کرنے کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ 31 اگست سے 11 اکتوبر تک کی اسمبلی حلقہ وار ہفتہ وار رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ان درخواستوں میں سے کچھ منظور کی گئی ہیں، جبکہ کچھ مسترد کر دی گئی ہیں۔ تمام دعووں اور اعتراضات کے نمٹارے کی آخری تاریخ 30 نومبر ہے۔ اس تاخیر نے ان شہریوں کی تشویش بڑھا دی ہے جو اپنا نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کرانا چاہتے ہیں۔ جن لوگوں کی درخواستیں ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے زیر التوا ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر 30 اکتوبر کے بعد کسی غلطی کی وجہ سے ان کی درخواست مسترد کر دی جاتی ہے تو ان کے پاس دوبارہ درخواست دینے کا موقع نہیں بچے گا۔ حتمی ووٹر لسٹ 4 دسمبر کو شائع کی جائے گی۔
دہلی کے چیف الیکشن افسر کے 18 اکتوبر تک کے روزانہ بلیٹن کے مطابق نام شامل کرانے کے لیے موصول ہونے والی 4.5 لاکھ درخواستوں میں سے تقریباً 2.39 لاکھ درخواستیں ان لوگوں کی ہیں جو اپنا نام دوبارہ شامل کرانا چاہتے ہیں یا جنھوں نے مسودہ فہرست شائع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ درخواست دی ہے۔ یہ تعداد مسودہ فہرست کی تیاری کے دوران حذف کیے گئے 47.5 لاکھ ناموں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ باقی 2.12 لاکھ درخواستیں مسودہ فہرست شائع ہونے سے پہلے، یعنی جون اور اگست کے درمیان موصول ہوئی تھیں۔
فارموں کے نمٹارے سے متعلق رپورٹ بتاتی ہے کہ دہلی کے 70 اسمبلی حلقوں میں سے 15 میں ’فارم 6‘ کی کسی بھی درخواست کا نمٹارا نہیں ہوا ہے۔ ان میں براڑی بھی شامل ہے، جہاں 1.67 لاکھ نام حذف کیے گئے ہیں۔ دہلی میں مجموعی طور پر یہاں سب سے زیادہ ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹائے گئے ہیں۔ پورے شمالی ضلع میں 36 ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں، لیکن صرف 27 فارموں کا ہی نمٹارا ہو پایا ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ اس تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ بی ایل او نوٹس والے معاملات کے نمٹارے میں مصروف تھے۔
اس رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ’فارم 7‘ کی درخواستوں کا نمٹارا ’فارم 6‘ کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہوا ہے۔ فارم 7 کسی نام کو شامل کرنے پر اعتراض درج کرانے یا موجودہ نام حذف کرانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس دوران 5,800 سے زیادہ فارم 7 کا نمٹارا کیا گیا ہے۔ یہ صورت حال اس وقت سامنے آئی ہے جب بی ایل او کو نام شامل کرانے اور نام پر اعتراض درج کرانے، دونوں طرح کی درخواستوں کے لیے موقع پر جا کر تصدیق کرنی ہوتی ہے۔ یہی نہیں، اعتراضات سے متعلق معاملات میں 15 دن کی نوٹس کی مدت بھی شامل ہوتی ہے۔ فارم 6 کی درخواستوں کے معاملے میں ایک بی ایل او کو موقع پر جا کر تصدیق کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔ اسی رپورٹ کی بنیاد پر آگے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔