بنگلورو، 20/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک کے بیشتر علاقوں میں خشک سالی کی صورت حال بدستور انتہائی سنگین ہے، جس کے باعث زرعی پیداوار متاثر ہونے کے ساتھ مویشیوں کے لیے چارے اور عوام کے لیے پینے کے پانی کی قلت بھی بڑھ رہی ہے۔ ریاستی حکومت اپنے وسائل سے متاثرہ کسانوں اور عوام کو راحت پہنچانے کے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ مرکزی حکومت سے خشک سالی کے معاوضے کے لیے تیسری یادداشت پیش کرنے کی تیاری جاری ہے۔ یہ بات نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر محصولات ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہی۔
بنگلورو کے سداشیونگر میں اپنی رہائش گاہ کے قریب پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ انہوں نے شمالی کرناٹک سمیت ریاست کے مختلف خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے زمینی صورت حال کا جائزہ لیا اور کسانوں سے بھی بات چیت کی۔ حالیہ دنوں میں بعض علاقوں میں بارش ہونے کے باوجود ریاست کے بیشتر حصوں میں خشک سالی کی شدت کم نہیں ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خشک سالی کے باعث زرعی پیداوار کو شدید نقصان پہنچا ہے اور نقصان کا تخمینہ 82 فیصد تک ہے۔ اس صورت حال سے غذائی اجناس کی دستیابی کے بارے میں تشویش پیدا ہوگئی ہے، جبکہ مویشیوں کے لیے چارے کی قلت اور پینے کے پانی کی فراہمی بھی سنگین مسئلہ بنتی جارہی ہے۔
ڈاکٹر پرمیشور کے مطابق، کئی مقامات پر ٹینکروں اور کرایے پر حاصل کیے گئے نجی بورویلوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ تاہم، اگر پانی کے بنیادی ذرائع ہی خشک ہوگئے تو ٹینکروں کے لیے پانی حاصل کرنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ انہوں نے اس صورت حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بحران سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کررہی ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی مقررہ رہنما ہدایات کے مطابق خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا تعین کرکے فصلوں اور دیگر نقصانات کا جائزہ لیا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر قومی آفات سے نمٹنے کے فنڈ (این ڈی آر ایف) کے ضوابط کے تحت مرکزی امداد طلب کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت پہلے ہی مرکز کی توجہ خشک سالی کی صورت حال کی جانب مبذول کراچکی ہے اور اب تیسری یادداشت تیار کی جارہی ہے۔ توقع ہے کہ یہ یادداشت آئندہ دو دن میں مکمل ہوجائے گی، جس کے بعد اسے مرکزی حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔
ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ یادداشت پیش کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ یا کل جماعتی وفد میں سے کون جائے گا، اس کا حتمی فیصلہ وزیر اعلیٰ کریں گے۔ پہلے کل جماعتی وفد مرکز بھیجنے کی تجویز سامنے آئی تھی، تاہم اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس میں شرکت کے معاملے پر مختلف آرا ظاہر کیے جانے کے بعد آئندہ لائحہ عمل بات چیت کے ذریعے طے کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مرکز سے امدادی رقم جاری ہونے پر خشک سالی سے متاثرہ کسانوں اور دیگر افراد کو مزید راحت پہنچانے میں مدد ملے گی، اس لیے مرکزی حکومت کو ضروری فنڈ جاری کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر پرمیشور نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت مرکزی امداد کا انتظار کیے بغیر اپنے وسائل سے خشک سالی سے نمٹنے اور پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ پانی کی فراہمی کے لیے پہلے ہی فنڈ مختص کیے جاچکے ہیں اور ضلع ڈپٹی کمشنر اور ضلع پنچایتوں کے چیف ایگزیکٹیو افسران مقامی سطح پر صورت حال کی نگرانی کررہے ہیں۔ ضرورت کے مطابق ٹینکروں اور نجی بورویلوں کے ذریعے پانی پہنچایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وی بی۔ جی رام جی اسکیم کے تحت کاموں کے لیے مرکز سے اب تک ایک پیسہ بھی جاری نہیں ہوا، اس کے باوجود ریاستی حکومت اپنے وسائل سے رقم فراہم کرکے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
ان کے مطابق، کسانوں کو فی کس 2,500 روپے معاوضہ فراہم کرنے کے لیے ریاستی حکومت تقریباً 1,250 کروڑ روپے خرچ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی دباؤ کے باوجود حکومت کسانوں اور عام لوگوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
ریاست میں جاری اسٹنگ آپریشن تنازع اور اس سے متعلق سیاسی الزامات و جوابی الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ موجودہ صورت حال کسی بھی لحاظ سے خوش آئند نہیں ہے۔ ان کے مطابق، عوامی زندگی میں غلطیاں ہوسکتی ہیں اور ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آئے ہوں گے، لیکن معاملے کو اس حد تک پہنچانا مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی وزرا سمیت ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد کو اپنے منصب، وقار اور اپنے بیانات کے ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ، سابق وزرائے اعلیٰ اور دیگر عہدے داروں کے درمیان مسلسل عوامی الزامات اور جوابی الزامات سے ایک ناخوش گوار ماحول پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہر شخص اس تنازع پر مسلسل بیان بازی کرتا رہے تو یہ معاملہ کہاں تک پہنچے گا، اس پر غور کرنا ضروری ہے۔ ان کے خیال میں اس مرحلے پر غیر ضروری عوامی بحث اور مسلسل ردعمل کے بجائے تحمل سے کام لینا بہتر ہوگا۔
حکومت کی شبیہ متاثر ہونے سے متعلق سوال پر ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سمیت حکومت کے ذمہ داران اس بات پر تبادلۂ خیال کریں گے کہ حکومت کا وقار کس طرح برقرار رکھا جائے اور عوام کے سامنے حقائق کس طرح پیش کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے الزام لگانے پر فوراً جوابی بیان دینا مناسب نہیں، کیونکہ ملک میں قانونی نظام موجود ہے اور ضروری کارروائی قانون کے دائرے میں کی جائے گی۔ ان کے مطابق، وزیر داخلہ اس معاملے میں ضروری اقدامات کررہے ہیں اور حکومت باہمی مشاورت کے بعد آئندہ فیصلہ کرے گی۔
اسٹنگ آپریشن تنازع کے پس منظر میں موجودہ میعاد کے دوران کسی دلت رہنما کو وزیر اعلیٰ بنائے جانے کے امکان سے متعلق سوال پر، جس میں ڈاکٹر جی پرمیشور، پرینک کھرگے اور ملیکارجن کھرگے کے ناموں کا ذکر کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ جب انہیں خود ایسی کسی بات کا علم نہیں تو میڈیا کو یہ اطلاع کہاں سے ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی بحث کی کم از کم کوئی بنیاد ہونی چاہیے اور بغیر کسی ثبوت یا بنیاد کے قیاس آرائیاں پیدا کرنا درست نہیں ہے۔
مرکزی وزیر ایچ ڈی کماراسوامی کے ریاستی سیاست میں واپسی اور 2028 میں اقتدار حاصل کرنے سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ ابھی یہ پیش گوئی نہیں کی جاسکتی کہ 2028 میں کون اقتدار میں آئے گا۔ اس کا فیصلہ کرناٹک کے عوام کریں گے۔
کماراسوامی کی ریاستی سیاست میں واپسی کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر وہ ریاستی سیاست میں سرگرم ہونا چاہتے ہیں تو انہیں کون روک سکتا ہے۔ وہ چاہیں تو کل ہی اپنے موجودہ عہدے سے استعفیٰ دے کر ریاستی سیاست میں سرگرم ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر پرمیشور کے مطابق، سیاست میں کسی کو بھی دوسرے شخص کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکنا ممکن نہیں۔