کاروار، 7 / اپریل (ایس او نیوز) رسوئی گیس کی سلنڈروں کی بکنگ اور سپلائی میں پیش آ رہی دقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سائبر کرائم کے کھلاڑیوں نے اب گیس بکنگ ایپ کے نام پر آن لائن فریب کاری کا سلسلہ شروع کر دیا ہے ۔
دیکھا جا رہا ہے کہ سوشیل میڈیا پر گیس بکنگ ایپس کی بھرمار ہوگئی ہے جس میں آسانی سے گیس سلنڈر بک کرنے کی سہولت ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ مگر جیسے ہی کوئی گاہک ایسے ایپس کے لنک کو کلک کرتا ہے تو اس کے بینک کھاتے سے رقم اڑا لی جاتی ہے ۔
گیس کمپنیوں کے باضابطہ ایپس کے بجائے لوگوں کو آسانی سے گیس بکنگ کرنے کا لالچ دینے والے جو اے پی کے فائلس کی لنک وائرل کی جا رہی ہے یہ فریب کاروں کے ایپس ہیں جس کے سہارے یہ لوگ بینک کھاتوں سے رقم اڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔
انڈین، بھارت اور ہندوستان پیٹرولیم جیسے کمپنیوں کے نام سے عوام کو ایس ایم ایس یا وہاٹس ایپ میسیج جا رہے ہیں جس میں گیس بک کرنے یا اپنی سبسیڈی حاصل کرنے کے لئے بھیجی گئی لنک اوپن کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے ۔ جیسے ہی اس لنک کو ڈاون لوڈ کیا جاتا ہے فون میں موجود بینک کی تفصیلات، پاس ورڈ اور او ٹی پی چرانے کے ساتھ کھاتے سے رقم اڑا لی جاتی ہے ۔ اپنے گھر سے ہی موبائل فون کے ذریعے جو لوگ گیس بکنگ کے عادی ہیں وہ اکثر اس طرح کے نقلی ایپس کا شکار ہو رہے ہیں ۔
اس طرح کی دھوکہ دہی پر روک لگانے کے لئے بینکوں کی طرف سے اپنے گاہکوں کو میسیج بھیجے جا رہے ہیں اور گیس بکنگ کے نقلی ایپس سے چوکنّا رہنے کی ہدایت دی جا رہی ہے ۔ دوسری طرف گیس ایجنسیوں کے مالکان نے بھی عوام کو اس طرح کے جعلی ایپس سے خبردار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس کمپنیوں کے اصلی ایپس سے ہی اپنے سلنڈر بک کروائیں ۔ اگر کوئی مشکل درپیش ہو تو کمپنیوں کے اصلی ویب سائٹس یا پھر اپنے شہر کی گیس ایجنسی سے براہ راست رابطہ کریں ۔