ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / این سی آر بی رپورٹ نے بی جے پی کے خواتین تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا: کانگریس

این سی آر بی رپورٹ نے بی جے پی کے خواتین تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا: کانگریس

Fri, 08 May 2026 17:55:19    S O News
این سی آر بی رپورٹ نے بی جے پی کے خواتین تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا: کانگریس

نئی دہلی ، 8/مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)این سی آر بی (نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو) کی 2024 پر مشتمل رپورٹ سامنے آنے کے بعد کانگریس نے مودی حکومت کے ساتھ ساتھ بی جے پی پر جارحانہ انداز میں حملہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ آج کانگریس کی سینئر لیڈر الکا لامبا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم اور بی جے پی حکومت کو خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم سے متعلق کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ انھوں نے کئی اہم حقائق سامنے رکھ کر نہ صرف مرکزی و بی جے پی حکمراں ریاستی حکومتوں کے ’خواتین کی سیکورٹی‘ سے متعلق تمام دعوؤں کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا، بلکہ این سی آر بی رپورٹ کو بھی مودی حکومت کے لیے آئینہ ٹھہرایا۔

پریس کانفرنس میں الکا لامبا نے کہا کہ این سی آر بی رپورٹ بتاتی ہے کہ گزشتہ 11 برسوں میں ملک بھر میں خواتین کے خلاف جرائم کے 42 لاکھ 85 ہزار 888 معاملے درج ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت کے دور میں خواتین کے خلاف جرائم مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں، لیکن انصاف دینے کے بجائے حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہزاروں خواتین برسوں سے انصاف مانگ رہی ہیں، لیکن ان کی کوئی سماعت نہیں ہو رہی۔

الکا لامبا نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ملک میں ہر 70 منٹ میں ایک خاتون درندگی کا شکار ہو رہی ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم کے معاملے میں اتر پردیش پہلے نمبر پر ہے، جہاں 66 ہزار 398 معاملے درج ہوئے ہیں۔ الکا لامبا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ وہی اتر پردیش ہے جہاں بی جے پی کی ’ڈبل انجن‘ حکومت چل رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے یہ تو بتایا کہ کتنے کیس درج ہوئے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ کتنی متاثرہ خواتین کو انصاف ملا۔ انہوں نے خواتین کے خلاف جرائم کے معاملے میں سرفہرست ریاستوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں بیشتر بی جے پی یا اس کے اتحادیوں کی حکومت والی ریاستیں شامل ہیں۔ اتر پردیش میں 66,398، مہاراشٹر میں 47,954، راجستھان میں 36,563، مغربی بنگال میں 34,360 اور مدھیہ پردیش میں 32,832 معاملے سامنے آئے ہیں۔

الکا لامبا نے این سی آر بی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر روز 10 دلت خواتین کے ساتھ عصمت دری کی جاتی ہے۔ پورا ملک اس ظلم اور ناانصافی پر وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت سے جواب مانگ رہا ہے۔ انہوں نے بہار کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب بی جے پی کی ’ڈبل انجن‘ حکومت حلف لے رہی تھی، اسی وقت پٹنہ میں ریلوے اسٹیشن سے ایک نابالغ بچی کو اغوا کر کے اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی جا رہی تھی۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ سے کچھ فاصلے پر ایک بچی کو کچرے کے ڈھیر میں پھینکا ہوا پایا گیا، جس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری ہوئی تھی۔ الکا لامبا نے کہا کہ مجرموں کے حوصلے اس لیے بلند ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اقتدار کے نشے میں چور حکومت ان کے خلاف کارروائی نہیں کرے گی۔

اتراکھنڈ کے چمپاوت میں پیش آئے گینگ ریپ کیس کا ذکر کرتے ہوئے الکا لامبا نے کہا کہ اس میں بی جے پی لیڈر سمیت 3 لوگ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب ریاستی خاتون کانگریس صدر متاثرہ خاندان سے ملنے گئیں تو پتہ چلا کہ بچی اور اس کے والد دونوں لاپتہ ہیں اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ بچی کے ساتھ انتہائی درندگی کی گئی۔ بچی برہنہ حالت میں تھی اور اس کے ہاتھ پیر رسی سے بندھے ہوئے تھے، لیکن بی جے پی حکومت نے اس پورے معاملے میں نابالغ متاثرہ بچی کو ہی سازش کرنے والی قرار دے دیا۔ الکا لامبا نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ بی جے پی اپنے لیڈروں کو بچانے کے لیے اس حد تک گر گئی ہے۔

کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ چاہے اتراکھنڈ کی بیٹی انکیتا بھنڈاری ہو یا چمپاوت کی نابالغ بچی، بی جے پی حکومت میں انہیں انصاف نہیں مل سکتا۔ اگر انصاف چاہیے تو ریاست سے باہر غیر جانبدارانہ جانچ کرانی ہوگی، کیونکہ ریاست میں بی جے پی حکومت صرف اپنے لیڈروں کو بچانے میں مصروف ہے۔ الکا لامبا نے الزام لگایا کہ چمپاوت گینگ ریپ کیس میں ملزمین نے متاثرہ بچی کے والد پر سمجھوتہ کرنے کا دباؤ ڈالا۔ کارروائی کرنے کے بجائے پولیس نے متاثرہ بچی کے والد کو ہی حراست میں لے لیا، بچی کو کسی سے ملنے نہیں دیا جا رہا، جبکہ تینوں ملزمین آزاد گھوم رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی اپنی حکومت کی شبیہ بچانے کے لیے پوری طاقت استعمال کر رہے ہیں۔

الکا لامبا نے غازی آباد بی جے پی مہیلا مورچہ کی صدر گیتا کوشک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی مورچہ کے نائب صدر نتن متل انہیں گندے اور فحش پیغامات بھیجتے ہیں۔ بی جے پی کے اندر یہ سب کچھ چل رہا ہے، لیکن پارٹی کے لیڈر خواتین کے احترام کی کھوکھلی باتیں کرتے ہیں۔ انہوں نے ہماچل پردیش کے بی جے پی رکن اسمبلی ہنس راج کا بھی ذکر کیا، جو ایک نابالغ کے ساتھ عصمت دری کے الزام کا سامنا کر رہے ہیں۔ الکا لامبا نے کہا کہ بی جے پی پوری طاقت لگا کر اسے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کو متاثرہ بچی اور اس کے خاندان کو انصاف دلانے کی کوئی فکر نہیں۔

الکا لامبا نے بی جے پی حکمراں مرکزی و ریاستی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ این سی آر بی کے اعداد و شمار محض اعداد نہیں ہیں، بلکہ یہ لاکھوں خواتین اور بچیوں کی داستان ہے جو درندگی کا شکار ہو رہی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’گجرات ماڈل‘ لے کر دہلی آئے تھے اور اب اسی ماڈل کو پورے ملک میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس ماڈل کے تحت عصمت دری کے مجرموں کو پھانسی نہیں دی جاتی، بلکہ عمر قید سنائی جاتی ہے، اور بعد میں ان کی سزا معاف کر کے انہیں رِہا کر دیا جاتا ہے۔

الکا لامبا نے مطالبہ کیا کہ این سی آر بی کے اعداد و شمار پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے اور حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ اب تک کتنی متاثرہ خواتین کو انصاف ملا ہے۔ ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ ملک میں خواتین کے خلاف جرائم کرنے والے درندوں کو بی جے پی ہمیشہ سے بچاتی اور انہیں تحفظ فراہم کرتی آئی ہے۔ ہم سبھی لوگوں کو اس کے خلاف متحد ہوکر آواز اٹھانی ہوگی، ورنہ یہ ملک اسی طرح شرمسار ہوتا رہے گا۔


Share: