ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ناسک: ٹی سی ایس کیس میں ندا خان مبینہ جنسی ہراسانی کے الزام میں گرفتار

ناسک: ٹی سی ایس کیس میں ندا خان مبینہ جنسی ہراسانی کے الزام میں گرفتار

Fri, 08 May 2026 17:46:01    S O News

ناسک  ، 8/مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)ندا خان کو مبینہ ٹی سی ایس جنسی ہراسانی اور مذہب تبدیلی کیس میں جمعرات کو ناسک سٹی پولیس نے چھترپتی سمبھاجی نگر سے گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاری اس معاملے کے سلسلے میں دیولالی کیمپ پولیس اسٹیشن میں درج نو ایف آئی آرز میں سے پہلی ایف آئی آر کے تحت عمل میں آئی، جس میں ندا خان کا نام شامل ہے۔ سندیپ کارنک ناسک سٹی پولیس کمشنر، نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ کو ناسک منتقل کیا جائے گا اور جمعہ کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں پولیس ان کی تحویل حاصل کرنے کی درخواست کرے گی۔

پیشگی ضمانت کی سماعت کے دوران، ندا خان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ حاملہ ہیں اور ان کا نام صرف ایک ایف آئی آر میں شامل ہے۔ دفاع نے یہ بھی دلیل دی کہ ان کے خلاف الزامات بنیادی طور پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے تک محدود ہیں۔ تاہم، استغاثہ نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے شکایت کنندگان میں سے ایک خاتون کی مبینہ ’’تبدیلیٔ مذہب‘‘ میں کردار ادا کیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق، انہوں نے برقعہ، مذہبی کتابیں فراہم کیں اور خاتون کے موبائل فون میں مذہبی اپلی کیشنز انسٹال کئے۔

واضح رہے کہ ٹاٹا کنسلٹنسی سروسیز کے ناسک بی پی او دفتر میں کام کرنے والی ندا خان ان آٹھ افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف ۲۶؍  مارچ سے ۳؍ اپریل کے درمیان مختلف ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ دیگر گرفتار ملزمان میں دانش شیخ، شفیع شیخ، آصف انصاری، توصیف عطار، شاہ رخ قریشی، رضا میمن اور اشوینی چینانی شامل ہیں، جنہیں پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ معاملہ فروری میں اس وقت سامنے آیا جب ایک ہندوتوا تنظیم نے پولیس سے رابطہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی پی او میں ملازم ایک ہندو خاتون کو کام کی جگہ پر اسلامی طریقے اپنانے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔

تحقیقات کے دوران، پولیس نے مبینہ طور پر دفتر میں کئی روز تک خفیہ اہلکار ہاؤس کیپنگ اسٹاف کے بھیس میں تعینات کیے۔ حکام کے مطابق، اسی نگرانی کے بعد قانونی کارروائی کی بنیاد فراہم کرنے والا مواد حاصل ہوا۔ ٹی سی ایس نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ کمپنی ہراسانی یا کسی بھی قسم کے جبر کے خلاف ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی رکھتی ہے۔ کمپنی نے یہ بھی تصدیق کی تھی کہ جن ملازمین پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد ہوئے، انہیں تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے۔ کمپنی نے بعد میں وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ندا خان کمپنی میں ایچ آر مینیجر یا کسی انتظامی عہدے پر فائز نہیں تھیں، حالانکہ بعض میڈیا رپورٹس میں انہیں ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ اور ایچ آر افسر قرار دیا گیا تھا۔

اس دوران اے پی سی آر کی مہاراشٹرا یونٹ کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کہا ہے کہ اب تک کی تحقیقات میں کسی منظم ’’لو جہاد‘‘ یا ’’کارپوریٹ جہاد‘‘ سازش کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ تنظیم کے مطابق، سرکاری ریکارڈ اور عوامی بیانیے میں واضح فرق پایا جا رہا ہے۔


Share: