ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام، پریانک کھرگے کی مرکز پر سخت تنقید، فنڈز اور منریگا واجبات پر سوالات

کرناٹک کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام، پریانک کھرگے کی مرکز پر سخت تنقید، فنڈز اور منریگا واجبات پر سوالات

Thu, 02 Apr 2026 12:23:39    S O News

بنگلورو ، 2/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاستی وزیر برائے دیہی ترقی و پنچایت راج اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و بایو ٹیکنالوجی پریانک کھرگے نے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کرناٹک کے ساتھ صرف ناانصافی نہیں بلکہ بے رحمانہ سلوک کر رہی ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے کرناٹک کو وہ توجہ اور فراخدلی نہیں دی جا رہی جو دیگر ممالک جیسے بنگلہ دیش اور افغانستان کو دی جاتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت ریاست کے ساتھ امتیازی سلوک برت رہی ہے اور ہر سطح پر کرناٹک کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ پندرہویں مالیاتی کمیشن کی مدت ختم ہونے کے باوجود کرناٹک کو اس کے واجب حقوق نہیں دیے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکز نے نہ صرف مالیاتی کمیشن کی سفارشات پر عمل نہیں کیا بلکہ بجٹ، سیلاب و خشک سالی امداد، ٹیکس کی تقسیم اور مرکزی اسکیموں میں بھی ریاست کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرناٹک کے عوام کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جا رہا ہے اور ریاست کو اس کے حصے کے وسائل سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

منریگا اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے پرینک کھڑگے نے کہا کہ 31 مارچ تک اس اسکیم کے تحت کرناٹک کو تقریباً 1943 کروڑ روپے کی رقم واجب الادا ہے، جس کے بارے میں مرکزی حکومت نے اب تک کوئی وضاحت نہیں دی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ یکم اپریل سے دیہی روزگار فراہم کرنے والی نئی اسکیم کے بارے میں بھی کوئی واضح رہنمائی نہیں دی گئی، جس سے دیہی عوام کے روزگار کے حق پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔

وزیر موصوف نے ریاستی بی جے پی قیادت کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر خاموش ہیں اور کرناٹک کے مفادات کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مالیاتی کمیشن کی سفارشات کے تحت ملنے والی 15,583 کروڑ روپے کی رقم سے محرومی پر ریاستی بی جے پی لیڈران نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔

پریانک کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کی معیشت میں بنگلورو کے کردار کی تعریف تو کی، لیکن شہر کی ترقی کے لیے اعلان کردہ 6000 کروڑ روپے میں سے ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جس دن ریاستی بی جے پی قیادت اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائے گی، اسی دن وہ حقیقی معنوں میں عوامی نمائندے کہلانے کی مستحق ہوگی۔


Share: