ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک کے ساتھ مالی ناانصافی پر سدارامیا برہم، مرکز پر ٹیکس تقسیم میں عدم مساوات کا سنگین الزام

کرناٹک کے ساتھ مالی ناانصافی پر سدارامیا برہم، مرکز پر ٹیکس تقسیم میں عدم مساوات کا سنگین الزام

Thu, 02 Apr 2026 12:38:10    S O News

بنگلورو ، 2/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)  وزیر اعلیٰ سدارامیا نے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرناٹک کے عوام کی جانب سے ادا کیے جانے والے ہر ایک روپیہ ٹیکس کے بدلے میں مرکز صرف پندرہ پیسے واپس کر رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا اسے ’’ٹیکس دہشت گردی‘‘ کہا جائے یا ’’ٹیکس لوٹ‘‘۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران مرکزی حکومت نے کرناٹک سے ٹیکس، سیس اور سرچارج کی مد میں چار اعشاریہ پچاس لاکھ کروڑ روپے سے زائد رقم جمع کی، جبکہ اس کے مقابلے میں ریاست کو صرف اناسی ہزار کروڑ روپے واپس دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں سے اس ناانصافی کو بارہا مرکزی حکومت کی توجہ میں لایا گیا، حتیٰ کہ دہلی میں پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج بھی کیا گیا، مگر کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔

انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں بسواراج بومئی اور آر اشوک کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب ریاست کے مفادات کی بات آتی ہے تو یہ رہنما خاموشی اختیار کرتے ہیں، مگر اب بے بنیاد تنقید کر رہے ہیں۔

سدارامیا نے کہا کہ کرناٹک جی ایس ٹی وصولی میں ملک میں دوسرے مقام پر ہے جبکہ شرحِ نمو کے اعتبار سے سترہ فیصد کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، لیکن اس کے باوجود اس کے باوجود ریاست کو اس کا مکمل حصہ نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے غیر سائنسی نفاذ کے باعث کرناٹک کو ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پندرہویں مالیاتی کمیشن کے تحت ریاست کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا، جبکہ سیس اور سرچارج کی رقم بھی ریاستوں میں تقسیم نہیں کی جا رہی۔ اسی کے ساتھ مرکزی منصوبوں کے لیے مناسب فنڈنگ نہ ہونے کے باعث ریاست کو مجبوراً قرض لینا پڑ رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر مرکزی حکومت ٹیکس تقسیم، جی ایس ٹی معاوضہ اور مرکزی اسکیموں کے فنڈ میں انصاف کرے تو کرناٹک ایک پیسہ بھی قرض لیے بغیر اپنی معیشت چلا سکتا ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2014 میں ملک کا کل قرض 51.06 لاکھ کروڑ روپے تھا جو بڑھ کر 2026-27 کے بجٹ میں 214 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ اس حساب سے ہر ہندوستانی پر تقریباً 4.8 لاکھ روپے کا قرض عائد ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرناٹک ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والی ریاست ہے اور مہاراشٹر کے بعد سب سے زیادہ ٹیکس دینے والوں میں شامل ہے، اس کے باوجود ریاست کو اس کا جائز حق نہیں دیا جا رہا۔ سدارامیا نے مزید کہا کہ ریاست کے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے ان کی حکومت اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور مرکز سے انصاف حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔


Share: