ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / باگلکوٹ ضمنی انتخاب: کانگریس نے ایم ایل ایز اور وزراء کی “فوج” اتار دی، سخت مقابلے کے آثار

باگلکوٹ ضمنی انتخاب: کانگریس نے ایم ایل ایز اور وزراء کی “فوج” اتار دی، سخت مقابلے کے آثار

Fri, 03 Apr 2026 22:09:08    S O News
باگلکوٹ ضمنی انتخاب: کانگریس نے ایم ایل ایز اور وزراء کی “فوج” اتار دی، سخت مقابلے کے آثار

باگلکوٹ، 3 اپریل (ایس او نیوز): کرناٹک کے باگلکوٹ اسمبلی حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب کو کانگریس نے اپنی ساکھ کا مسئلہ بنا لیا ہے، جس کے پیش نظر پارٹی نے غیر معمولی حکمت عملی اپناتے ہوئے درجنوں وزراء اور ارکانِ اسمبلی کو انتخابی مہم میں جھونک دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس نے تقریباً 20 وزراء اور 40 ایم ایل ایز کو باگلکوٹ میں تعینات کیا ہے، جنہیں مختلف علاقوں اور ووٹر طبقات کے لحاظ سے ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ مقابلہ انتہائی سخت ہے اور معمولی فرق سے نتیجہ طے ہو سکتا ہے، اسی لیے مکمل طاقت جھونک دی گئی ہے۔

اندرونی سروے کے بعد حکمت عملی میں شدت 
اطلاعات کے مطابق کانگریس کی اندرونی سروے رپورٹ نے قیادت کو تشویش میں مبتلا کر دیا، جس میں اشارہ دیا گیا کہ بی جے پی کے ساتھ سخت ٹکر متوقع ہے۔ اسی پس منظر میں پارٹی نے “ڈور ٹو ڈور” مہم، ووٹر مائیکرو مینجمنٹ اور کمیونٹی بیسڈ اپروچ کو تیز کر دیا ہے۔

مرکزی قیادت کی براہِ راست نگرانی 
ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار خود انتخابی مہم کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ اعلیٰ سطح پر حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مختلف وزراء کو ذات اور برادری کے اثر و رسوخ کے حساب سے علاقوں کی ذمہ داری دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جا سکیں۔ 

’کم از کم 10 دن میدان میں رہنے‘ کی ہدایت 
کانگریس لیجسلیٹو پارٹی (CLP) اجلاس میں تمام وزراء، ایم ایل ایز اور پارٹی عہدیداران کو ہدایت دی گئی کہ وہ کم از کم 10 دن حلقے میں قیام کریں اور انتخابی مہم کو زمینی سطح پر مضبوط کریں۔

اسی کے تحت مختلف لیڈروں کو مخصوص ووٹر گروپس کو متحرک کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ ووٹر رابطہ مہم کو بھی تیز کیا گیا ہے۔

انتخاب کیوں اہم ہے
باگلکوٹ کی یہ سیٹ سابق وزیر ایچ وائی میٹی کے انتقال کے بعد خالی ہوئی، جس کے باعث یہ ضمنی انتخاب منعقد ہو رہا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخاب محض ایک نشست کا نہیں بلکہ ریاست میں کانگریس کی سیاسی طاقت اور بی جے پی کی واپسی کے امکانات کا امتحان بن چکا ہے۔

گورننس متاثر ہونے کے خدشات 
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں وزراء اور ایم ایل ایز کے انتخابی مہم میں مصروف ہونے سے ریاستی انتظامیہ متاثر ہو رہی ہے اور معمول کی حکمرانی کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔

باگلکوٹ میں ووٹنگ پیٹرن اور کمیونٹی فیکٹر 
باگلکوٹ میں ووٹنگ پیٹرن زیادہ تر ذات (caste dynamics) پر مبنی ہے۔ مختلف میڈیا اور سیاسی تجزیوں کے مطابق ووٹروں کی اندازاً تقسیم کچھ اس طرح مانی جاتی ہے: کروبا: تقریباً 18% سے 22%،  لنگایت: تقریباً 20% سے 25%، ایس سی / دلت: تقریباً 15% سے 18%،  دیگر او بی سی: تقریباً 15% سے 20%، مسلم ووٹرز: تقریباً 10% سے 12%،  دیگر (جنرل و چھوٹی کمیونٹیز): تقریباً 8% سے 10% 

واضح رہے کہ باگلکوٹ اسمبلی حلقے میں ووٹنگ 7 اپریل 2026 کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 10 اپریل 2026 کو کی جائے گی۔


Share: