کاروار ،13 / اپریل (ایس او نیوز) کریمنل کیس کی وجہ سے اپنے بیٹے کو امریکہ جانے کے راستے میں درپیش رکاوٹ دور کرنے کے لئے سابق رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڑے نے ریاستی ہائی کورٹ کا جو دروازہ کھٹکھٹایا ہے اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کرناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی کے ضلع ترجمان شمبھو شیٹی نے پوچھا ہے کہ جب بی جے پی میں دھرم کی جد و جہد کے نام پر پچھڑے طبقات کے ہزاروں بچوں کی زندگیاں تباہ ہو رہی تھیں، تب سابق رکن پارلیمان کہاں تھے ؟
شمبھو شیٹی کی طرف سے جاری کیے گئے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اہم اخباروں میں شائع ہوئی خبروں کے مطابق ایک کریمنل کیس کی وجہ سے سابق رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڑے کے بیٹے کو پاسپورٹ حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ جانے کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے ۔ اس لئے اننت کمار ہیگڑے نے ہائی کورٹ سے اپنے بے قصور بیٹے کو انصاف دلانے کی اپیل کی ہے ۔
اسی تناظر میں شمبھو شیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بی جے پی دھرم کی حفاظت کے نام پر پچھڑے طبقات کے نوجوانوں کو شامل کرکے مذہبی جذبات والی تقریروں سے انہیں بھڑکایا گیا، ان کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے ان کا مستقبل ہی برباد کر دیا گیا ۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں اس پارٹی کی تاریخ میں موجود ہیں ۔
شمبھو شیٹی کا کہنا ہے کہ اگر شمالی کینرا کی ایک مثال دیں تو بھٹکل فسادات سے لے کر ہوناور میں پریش میستا معاملے تک بی جے پی کی طرف سے دھرم سے متعلقہ احتجاجات کا کوئی شمار نہیں ہے ۔ ان حالات میں پولیس کی طرف سے داخل ہونے والے کیس اپنے اوپر لینے والے شودروں اور دلتوں کے بچے ہیں ۔ ان کو اشتعال انگیز تقاریر سے بھڑکانے والے اعلیٰ طبقے کے لوگ ہیں ۔
ان تمام معاملات میں اپنے خرچ پر کورٹ کچہری کے چکر لگانے، تعلیمی زندگی، سرکاری نوکری یا بیرونی ممالک میں ملازمت سے محروم ہونے والے شودروں اور پچھڑوں کے بچے ہیں ۔ دوسری طرف پچھڑے طبقات سے تعلق رہنے کی وجہ سے سیاسی میدان میں جگہ نہ پانے والے بھی ہزاروں کی تعداد میں یہی لوگ ہیں۔
شمبھو شیٹی کے مطابق حالانکہ ان میں سے واقعی کسی جرم میں ملوث افراد بس تھوڑے ہی ہیں، لیکن ان میں زیادہ تعداد پولیس کو دی گئی غلط معلومات کی وجہ سے عدالتوں کے چکر کاٹنے والوں کی ہے ۔ ایسے کبھی بھی بی جے پی کے کسی بھی لیڈر نے عدالت کے سامنے یہ نہیں کہا کہ ان نوجوانوں میں سے کوئی بے قصور ہے، ان کے مستقبل کے لئے رکاوٹیں ہو رہی ہیں، ان کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے ۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ بات معلوم ہونے کے بعد بھی آنکھیں رہنے کے باوجود اندھوں کی طرح اس جال میں پھنسنے والے پچھڑے طبقات کے نوجوانوں کی تعداد کم نہیں ہو رہی ہے ۔
شمبھو شیٹی نے کہا ہے کہ اب اننت کمار ہیگڑے نے اپنے بیٹے کے مستقبل کے تعلق سے انصاف کے لئے ہائی کورٹ میں جو عرضی داخل کی ہے، اگر ان کا بیٹا واقعی بے قصور ہے تو ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن پچھڑے طبقات کی نوجوان نسل کے لئے یہ ایک سبق آموز موڑ ہے ۔