بنگلورو، 18 /اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے واضح کیا ہے کہ ان کی پارٹی اور حکومت کو خواتین کے لیے ریزرویشن سے کوئی مخالفت نہیں ہے، تاہم اس بل کو حلقہ بندی (سیٹوں کی از سر نو تقسیم) کے ساتھ جوڑنے کی وجہ سے اس پر عمل درآمد میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
وہ بنگلورو کے شانگریلا ہوٹل میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2023 میں لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل منظور کیا گیا تھا، لیکن اسے آئینی ترمیم اور حلقہ بندی کے عمل سے مشروط کرنے کے باعث اس پر فوری عمل ممکن نہیں ہو سکا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر خواتین ریزرویشن کو علیحدہ طور پر پیش کیا جاتا اور اسے حلقہ بندی سے نہ جوڑا جاتا تو اس پر عمل درآمد ہو سکتا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت نے سیاسی مقاصد کے تحت دونوں امور کو ایک ساتھ لا کر اس بل کو مؤخر کر دیا۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے سابق وزیر کے این راجنا کے بیان کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے اس معاملے میں راجنا سے بات چیت کر لی ہے۔