ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ووٹ چوری کے خلاف مہم سے مودی حکومت کو اقتدار سے ہٹانا انڈیا اتحاد کا ہدف: پون کھیڑا

ووٹ چوری کے خلاف مہم سے مودی حکومت کو اقتدار سے ہٹانا انڈیا اتحاد کا ہدف: پون کھیڑا

Sat, 17 Oct 2026 17:06:56    S O News

نئی دہلی ، 17/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی)کانگریس نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے ووٹ چوری کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر کے ملک کے ترقیاتی عمل کو پوری طرح سے تباہ کر دیا ہے، اسلئےووٹ چور-گدی چھوڑ مہم کے ذریعے مودی حکومت کو ہرا کر نظام میں تبدیلی لانا اپوزیشن انڈیا اتحاد کا ہدف ہے۔ کانگریس کے شعبہ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے جمعہ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اپوزیشن کا مقصد انتخابات کے ذریعے حکومت بدلنا ہے لیکن بی جے پی اس مہم سے پریشان ہے کیونکہ انہیں اب جمہوریت کی عادت نہیں رہی ہے۔

پون کھیڑا نے  پرشانت بھوشن کے ’رجیم چینج ‘سے متعلق بیان پر ہونے والے تنازعے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ۲۰۱۳ء میں جب بھوشن نے اسی طرح کے مطالبات کیے تھے تو انہیں اپنا حامی سمجھا جاتا تھا، لیکن اب انہیں دشمن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔  پون کھیڑا نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے ملک میں غصہ ہے اور نوجوان سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے سوالات پوچھے جا رہے ہیں لیکن جواب مودی حکومت دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے وزیر اعظم سے سوال پوچھے جاتے تھے تو گیانیش کمار جواب دیتے تھے اور اب گیانیش کمار سے سوال پوچھے جاتے ہیں تو بی جے پی حکومت جواب دے رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ امت شاہ میڈیا چینلز کے ایڈیٹروں کو دعوت دے کر انہیں آف دی ریکارڈ معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے کیوں نہیں ہٹایا جا رہا ہے اور مودی حکومت انہیں ہٹانے کیلئے تیار کیوں نہیں ہے۔ کھیڑا نے کہا کہ جب بھی مودی حکومت سے سوالات پوچھے جاتے ہیں تو جواب دینے کے بجائے سوال اٹھانے والوں پر الزامات لگائے جاتے ہیں اور ان کے خلاف سازشیں رچی جاتی ہیں۔ انہوں نے بھوجپوری گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور جیسی آوازوں کو ’’بائیں بازو کا حامی‘‘، ’’اربن نکسل‘‘ قرار دینے کے رجحان پر بھی تنقید کی۔ کھیڑا نے کہا کہ حکومت کو اپنے ناقدین پر حملہ کرنے کے بجائے ان کی تنقید کا جواب دینا چاہیے۔سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا فرض مخالفت کرنا، سچائی سامنے لانا اور ممکن ہو تو حکومت کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔ بی جے پی کو جب جمہوری طریقے سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اسے اس طرح کی مخالفت غداری لگنے لگتی ہے۔

کانگریس لیڈر کھیڑا نے اوورسیز سٹیزن آف انڈیا(اوسی آئی) کارڈ رکھنے والے افراد کے احتجاج کے حق کا بھی دفاع کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے اداکار عمران خان کو حکومت کی جانب سے نوٹس دئیے جانے کی مخالفت کی اور کہا کہ، ’’آپ بیرونِ ملک ڈانڈیا کھیلنے پر ہندوستانی تارکینِ وطن کی تعریف کرتے ہیں، لیکن عمران خان کے ہندوستان میں احتجاج کرنے کے ان کے حق پر سوال اٹھاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ جب ہندوستانی تارکینِ وطن بیرونِ ملک ہندوستانی ثقافت کو فروغ دیتے ہیں تو پارٹی ان کی تعریف کرتی ہے، لیکن جب اسی برادری کے افراد ہندوستان میں حکومت پر تنقید کرتے ہیں تو انہیں غدار قرار دیا جاتا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے ممبئی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے درمیان مجوزہ ملاقات پر وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کیا ہے۔ انہوں نے بظاہر وزیرخارجہ کو امریکی عہدیدار کا ’ملازم‘  قرار دیتے ہوئے سفارتی معاملے کو سنبھالنے پر حکومت پر سوالات اٹھائے ہیں۔’ ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہا، ’’مسٹر روبیو نے اپنے ملازم کو ممبئی طلب کیا ہے۔ مودی جی! آپ کی وزارتِ خارجہ کے حکام الجھن کا شکار ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ آپ خود وضاحت کرنا چاہیں گے؟ یا پھر آپ چاہتے ہیں کہ میں ہی اس کی وضاحت کروں؟‘‘ راہل کے ان تبصروں کا مقصد مجوزہ ملاقات کے حالات پر سوال اٹھانا تھا، جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وزارتِ خارجہ کے افسران ان پیش رفت کے بارے میں غیر واضح ہیں۔


Share: