ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مہوا موئترا کا دوٹوک بیان، ’ہاں، ہم اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں‘

مہوا موئترا کا دوٹوک بیان، ’ہاں، ہم اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں‘

Sat, 17 Oct 2026 19:04:19    S O News

نئی دہلی ، 17/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی)ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس (ایم اے آئی ٹی سی) کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے ’اقتدار کی تبدیلی‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو حکومت اپنے ہی غیر مسلح شہریوں کو قومی پرچم لہرانے کے لیے مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر حراست میں لیتی ہے اور انہیں جیل بھیجنے کے لیے عدالتی افسران کے طور پر پولیس مشینری کا استعمال کرتی ہے، اسے اقتدار میں بنے رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ مہوا موئترا کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو لے کر حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہاں، ہم ’رجیم چینج‘ (اقتدار کی تبدیلی) چاہتے ہیں۔ جو حکومت اپنے ہی غیر مسلح شہریوں کو قومی پرچم لہرانے کے لیے غیر قانونی طور پر اٹھا لیتی ہے، انہیں حراست میں رکھتی ہے اور عدالتی افسران کی آڑ میں پولیس مشینری کا استعمال کر کے انہیں جیل بھیجتی ہے، اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے ’رجیم چینج‘ معاملہ پر مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے بیان کو خاص طور سے ہدف تنقید بنایا اور زور دے کر کہا کہ ’’ہاں، ہم اب اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں۔‘‘

مہوا موئترا کے بیان سے قبل راجیہ سبھا رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے بھی ’رجیم چینج‘ معاملے پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے وزیر دفاع اور بی جے پی لیڈر راج ناتھ سنگھ کے بیان پر کہا تھا کہ ’’آپ الزام عائد کرتے ہیں کہ کانگریس بنگلہ دیش کے راستے اقتدار کی تبدیلی چاہتی ہے۔ نہیں، عوام اقتدار کی تبدیلی چاہتی ہے۔ بدعنوانی کے خلاف ہندوستان کے نعرے کے ساتھ ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے آپ کو اقتدار تک پہنچایا تھا۔ لیکن اس کے بعد آپ نے کیا کیا؟ بدعنوانی کو گلے لگا لیا۔ اداروں پر قبضہ کر لیا۔ ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کی۔ اب اقتدار سے جانے کا وقت آ گیا ہے!‘‘

واضح رہے کہ جمعہ کو دہلی واقع کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے بھی کہا تھا کہ ’’اب اچانک راجناتھ سنگھ حکومت کو بچانے کے لیے آ گئے ہیں۔ انہیں جمہوریت کی عادت ہی ختم ہو گئی ہے۔ جب پوری اپوزیشن خود کہہ رہی ہے کہ اس حکومت کو ہٹانا ہے تو اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ جمہوریت میں انتخابات کے ذریعہ حکومت تبدیل کرنا اپوزیشن کا حق ہے۔‘‘

دراصل آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نیہا بورا نے ایک بیان میں ’رجیم چینج‘ کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کی جین-زی تحریک کو جمہوریت اور انسانی حقوق کی بحالی کے لیے بنگلہ دیش کے نوجوانوں سے تحریک ملی ہے۔ اسی بیان کے بعد سے بی جے پی حملہ آور ہے اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھی اسی معاملے کو لے کر نشانہ بنایا۔ راج ناتھ سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ اپوزیشن کے کچھ لیڈران بنگلہ دیش کی طرح ہندوستان میں بھی اقتدار کی تبدیلی کی سازش کرنا چاہتے ہیں۔


Share: