کولکاتا، 5 مئی (ایس او نیوز/پی ٹی آئی): مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ ممتا بنرجی نے منگل کو استعفیٰ دینے سے صاف انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انتخابی نتائج عوامی مینڈیٹ کا عکاس نہیں بلکہ ایک منظم سازش کا نتیجہ ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا کہ ان کی پارٹی کا مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا سے تھا، جو ان کے بقول “بی جے پی کے لیے کام کر رہا تھا”۔
انہوں نے کہا، “میرے استعفیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ ہمیں عوامی فیصلے سے نہیں بلکہ سازش کے ذریعے ہرایا گیا ہے… میں نہیں ہاری، میں لوک بھون نہیں جاؤں گی۔ وہ آئینی ضوابط کے مطابق جو کارروائی کرنا چاہیں، کر سکتے ہیں۔”
ممتا بنرجی نے ووٹوں کی گنتی کے عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ تقریباً 100 نشستوں پر عوامی مینڈیٹ کو “لوٹ لیا گیا” اور گنتی کے عمل کو جان بوجھ کر سست کیا گیا تاکہ ان کی پارٹی کے حوصلے پست کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ “تاریخ میں ایک سیاہ باب رقم کیا گیا ہے۔”
ٹی ایم سی سربراہ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے عوام کے جمہوری حقوق کو کمزور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کا کردار متنازع رہا اور مرکزی اداروں نے بی جے پی کی مکمل حمایت کی۔ ان کے مطابق خصوصی نظرثانی (SIR) کے نام پر تقریباً 90 لاکھ ووٹ حذف کیے گئے، جس سے نتائج متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی سیاسی زندگی میں انہوں نے ایسے انتخابات کبھی نہیں دیکھے، اور وہ مبینہ “ووٹ چوری” کے خلاف تحریک چلائیں گی۔
انہوں نے بعد از انتخابات تشدد سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے 10 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا، جبکہ 2021 کے بعد از انتخابات تشدد کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد “انڈیا بلاک” کے کئی رہنماؤں نے ان سے رابطہ کرکے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ممتا نے کہا کہ انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے مجھے فون کیا، سونیا گاندھی اور راہول گاندھی نے بھی مجھ سے بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ بدستور انڈیا اتحاد کا حصہ ہیں اور آئندہ دنوں میں اسے مزید مضبوط بنانے پر توجہ دیں گی۔
واضح رہے کہ پیر کو ہوئے ووٹوں کی گنتی کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 294 رکنی اسمبلی میں 207 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ جبکہ ممتا بنرجی کو اپنے حلقۂ انتخاب میں بھی تقریباً 15 ہزار ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔