منگلورو، 3 / مئی (ایس او نیوز) کمرشیل ایل پی جی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ اور سپلائی میں رکاوٹوں سے بری طرح متاثراتر کنڑا، دکشن کنڑا اور اڈپی ضلع کے ہوٹل مالکان نے کھانے پینے کی قیمتوں میں 10% سے 15% تک اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
منگلورو ہوٹل اونرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کمرشیل ایل پی جی سلینڈر کی قیمت میں حال ہی میں جو993 روپے کا زبردست اضافہ ہوا ہے اس سے ساحلی علاقے کے ہوٹل صنعت کو شدید دھچکا لگا ہے اور کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کے اخراجات پورا کرنے کے لیے کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ناگزیر ہوگیا ہے ۔
ایسوسی ایشن کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اپنے اراکین کے مطالبات کے بعد انہوں نے کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا اطلاق فوری طور ہوگا ۔
ان کے مطابق ہوٹل صنعت بدحالی کا شکار ہے اور مالکان ایک مخمصے میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ اگر قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جاتا ہے تو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ قیمتیں بڑھانے سے صارفین کم ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
ایک مقامی ہوٹل کے مالک نے بتایا کہ وہ پچھلے دو مہینوں سے قیمتوں میں اضافے کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے لیکن اب یہ بوجھ ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے علاقے میں واقع ایک ہوٹل والے نے خبردار کیا کہ اگر اگلے 10 دنوں میں گیس کی قیمتیں کم نہیں ہوئیں تو منگلورو میں کچھ ہوٹل والے اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں ۔
خیال رہپے کہ کمرشیل ایل پی جی کی قیمت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ہوٹل، کینٹین، اور سڑک کے کنارے فاسٹ فوڈ سینٹرز سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ ان کے ہاں فراہم کی جانے والے بہت سے کھانے لکڑی کے استعمال سے تیار نہیں کیے جا سکتے ۔
گیس کی سپلائی میں ہو رہی کمی نے بلیک مارکیٹنگ کو فروغ دیا ہے ۔ اس وقت مبینہ طور پر کمرشل سلینڈر 6,000 روپے سے زیادہ میں فروخت ہو رہے ہیں ۔ کدری جیسے علاقوں کے تاجروں نے بتایا کہ گیس کی مصنوعی قلت کی وجہ سے وہ سرکاری نرخوں سے تقریباً دوگنی قیمت پر گیس خریدنے کے لئے مجبور ہو گئے ہیں ۔
ہوٹل مالکان نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ گیس صرف سرکاری ڈیلرز کے ذریعے دستیاب ہو۔
اڈپی کے ہوٹل مالکان کی طرف سے بھی ریاستی ایسوسی ایشن کے ساتھ میٹنگ کے بعد قیمتوں میں ترمیم کے بارے میں حتمی فیصلہ اگلے ہفتے میں سامنے آنے کی توقع ہے۔ مقامی ہوٹل مالکان نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ اب ان کی روزانہ کی آمدنی کا نصف حصہ صرف گیس پر خرچ ہو رہا ہے جس سے عملے کی تنخواہیں ادا کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے ۔
سبزیوں، کھانا پکانے کے تیل اور مسالوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ گیس کی قیمتوں میں اضافے نے سیاحتی موسم کے دوران صنعت کے لیے ایک بڑا بحران پیدا کر دیا ہے ۔
کمرشیل گیس کے علاوہ عام لوگوں کے لئے گھریلو گیس کی ترسیل میں تاخیر کی بھی شکایت سامنے آئی ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ گیس بکنگ کی تصدیق ہونے کے بعد بھی ڈیلر کی طرف سے سپلائی پہنچنے میں 15 دن تک کا وقفہ لگتا ہے ۔ جس کی وجہ سے عوام کو بھی مشکل دور سے گزرنا پڑ رہا ہے ۔